خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور ہمسایہ ملک سعودی عرب میں کھیلوں کے بڑے مقابلوں کی منسوخی کے باوجود، قطر میں موٹو جی پی موٹر سپورٹس کی تیاریاں پوری رفتار سے جاری ہیں۔

الجزیرہ اور رائیٹرز کے مطابق، قطر گراں پری اپنے طے شدہ وقت یعنی 6 سے 8 نومبر کو ہی منعقد کی جائے گی، جسے اس سے قبل خطے میں کشیدگی کے باعث اپریل سے ملتوی کیا گیا تھا۔ رائیٹرز سے بات کرتے ہوئے موٹو جی پی کے ایک ذمہ دار کا کہنا تھا کہ تمام تیاریاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور اس میں حصہ لینے والے تمام افراد کی حفاظت اور سلامتی کو سب سے پہلی ترجیح دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب، رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد، جہاں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے، متعدد اہم تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ان منسوخ شدہ مقابلوں میں سعودی انٹرنیشنل گولف ٹورنامنٹ، اربن سائیکلنگ ورلڈ چیمپئن شپ اور فیفا ورلڈ کپ شامل ہیں۔ بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں اپنے بعض سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو وہاں سے نکلنے کا حکم دیا ہے، جبکہ خطے کے دیگر امریکی مشنز سے بھی عملے کے اہل خانہ کو واپس بلانے کے منصوبے بنائے گئے ہیں۔

ان تمام حالات کے باوجود موٹر سپورٹس کے حکام نے حالات پر قابو پانے اور مقابلے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ رائیٹرز کے مطابق، فارمولا ون بھی اپنے سیزن کے آخری ریسیں قطر اور ابوظہبی میں شیڈول کے مطابق کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، اور عالمی آٹوموبائل فیڈریشن (FIA) کے صدر محمد بن سلییم کا کہنا ہے کہ خطے میں موجودہ صورتحال بالکل ٹھیک ہے۔

پس منظر

رپورٹس کے مطابق قطر گراں پری 2004 میں اپنے آغاز سے لے کر اب تک موٹو جی پی کیلنڈر کا ایک مستقل حصہ رہی ہے۔ اس میں ماضی میں صرف ایک ہی بار خلل پڑا تھا، جب 20000 (2020) میں عالمی وبا کوویڈ 19 کی وجہ سے یہ ریس منسوخ کر دی گئی تھی۔

آنے والی یہ ریس موجودہ موٹو جی پی سیزن کا 20 واں راؤنڈ ہے۔ چیمپئن شپ کے آخری مرحلے کے قریب پہنچنے پر، رائیٹرز کے مطابق اپریلیا کے رائیڈر خورخے مارٹن کو ڈاکاٹی کے دفاعی چیمپئن مارک مارکیز پر محض دو پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ دوسری جانب فارمولا ون کی صورتحال یہ ہے کہ آخری دو ریسوں سے پہلے مرسڈیز کے ڈرائیور کیمی انٹونیلی کو 102 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔

اس کی اہمیت کیا ہے

پاکستان اور خطے بھر سے عالمی کھیلوں کے کیلنڈر پر نظر رکھنے والے شائقین اور مبصرین کے لیے، موٹو جی پی اور فارمولا ون جیسے بڑے بین الاقوامی مقابلوں کا تسلسل اس نازک توازن کو ظاہر کرتا ہے جو جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بڑے پیمانے پر ہونے والے عالمی تفریحی انتظامات کے درمیان پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ خورخے مارٹن جیسے رائیڈرز نے سکیورٹی کے معاملے پر منتظمین کے فیصلوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، بین الاقوامی نشریات دیکھنے والے علاقائی شائقین کو یہ بھی یاد دلایا جاتا ہے کہ کس طرح سکیورٹی کی حرکیات براہ راست عالمی کھیلوں کے شیڈول کو متاثر کر سکتی ہیں۔