جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایتھنز میں قدیم اکروپولیس کو پس منظر میں رکھ کر خطاب کیا تو انہوں نے ڈھائی ہزار سال پرانی تاریخ کو موجودہ دنیا کی سیاست پر فٹ کرنے کی کوشش کی۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، 480 قبل مسیح کی جنگِ یونان و فارس اور ایتھنز کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے مارکو روبیو نے خود کو مغربی تہذیب کا وارث قرار دیا اور ایران کی موجودہ قیادت کو انتہا پسند قرار دیا۔
الجزیرہ کے مطابق، 7 اکتوبر 2026 کو دیے جانے والے اس بیان پر ایران کے سیاسی حلقوں میں سخت برہمی پائی گئی۔ ایرانی سیکیورٹی چیف محسن رضائی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے رومن شہنشاہ ویلیرین کا حوالہ دیا جسے 260 عیسوی میں فارسی فوج نے زندہ گرفتار کر لیا تھا۔ محسن رضائی نے کہا کہ جو بھی تاریخ کو اس میں لائے گا اسے اس کے دہرائے جانے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق یہ سفارتی کشیدگی اس جنگ کے تناظر میں سامنے آئی ہے جس کا آغاز 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا۔ اگرچہ جون میں طے پانے والے ایک سمجھوتے کے بعد براہ راست لڑائی میں کمی آئی ہے، لیکن کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ امریکہ نے ایران پر بحری ناکہ بندی جاری رکھی ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت اب بھی متاثر ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے الزام عائد کیا کہ مارکو روبیو نے یونانی، رومن، مسیحی اور جدید تاریخ کو مسخ کیا۔ تہران کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی سفارت کار نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے امریکہ فرسٹ کا بیانیہ استعمال کیا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے؟
پاکستان کے عام قارئین کے لیے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اس لفظی اور اسٹریٹجک کشیدگی کے گہرے اثرات ہیں۔ اس خطے کے ساتھ پاکستان کے قریبی تاریخی اور جغرافیائی تعلقات کی وجہ سے آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں کی بندش اور عدم استحکام براہ راست خطے کی سیکیورٹی، عالمی توانائی کی فراہمی اور معاشی صورتحال کو متاثر کر سکتا ہے۔

مارکو روبیو
ڈونلڈ ٹرمپ