انگلینڈ کے قومی رگبی اسٹیڈیم ٹوئکنہم کے گراؤنڈ میں اترنے کے بجائے، فل وِکری اس بار ہُل میں فزیکل کلچر شو کے بیک اسٹیج پر کھڑے تھے جہاں ان کے اندر وہی پرانی اور جانی پہچانی گھبراہٹ موجود تھی۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، انگلینڈ کے اس سابق پروپ کھلاڑی کو کھیل کے پرانے دنوں کی طرح جوش اور تذبذب کا وہی ملا جلا احساس ہوا، اور وہ سوچ رہے تھے کہ آیا انہیں واقعی اس اسٹیج پر ہونا بھی چاہیے یا نہیں، جس کے بعد انہوں نے خود کو اپنی کی گئی محنت کی یاد دلائی۔
بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق، فل وِکری کا 50 سال کی عمر میں باڈی بلڈنگ کی دنیا میں آنے کا سفر پہلے فٹ ہونے کی خواہش سے شروع ہوا، جس کے بعد ان کے دوست لی پاول نے انہیں چیلنج کیا اور ٹریننر ڈیو کیمپبل نے ان کا ساتھ دیا۔ رگبی ورلڈ کپ کے معروف ترانے "ورلڈ اِن یونین" کی دھن پر پوز کرتے ہوئے، گلوسٹر اور واسپس کے اس سابق کھلاڑی نے کھیلوں کی ایک بالکل نئی قسم کی تربیت کو اپنایا۔
پس منظر
بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، وِکری نے انگلینڈ کے لیے 73 اور برٹش اینڈ آئرش لائنز کے لیے 5 میچ کھیلے، جس کا شاندار اختتام 2003 میں آسٹریلیا میں رگبی ورلڈ کپ کی فتح پر ہوا۔ رگبی کے علاوہ ان کے کاروباری کیریئر میں مختلف کام اور 'سیلیبریٹی ماسٹر شیف' کا اعزاز بھی شامل ہے۔ تاہم، ذاتی مشکلات اور دماغی صحت کے ایک ممکنہ مسئلے (سی ٹی ای) کی تشخیص نے—جس کے خلاف ان کی قانونی جنگ بھی جاری ہے—انہیں اپنی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کرنے پر مجبور کیا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
کھیلوں کے شائقین اور بڑھتی عمر کے کھلاڑیوں کے لیے، وِکری کا یہ قدم یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح جسمانی تربیت، نظم و ضبط اور ذہنی صحت کا انتظام زندگی کے مختلف مراحل میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ بی بی سی اسپورٹس کا کہنا ہے کہ سابق کھلاڑی نے باڈی بلڈنگ میں ایک ایسا اکیلا کھیل پایا جہاں جسم کی ساخت محنت اور ذاتی ذمے داری کا براہِ راست عکس ہوتی ہے، جو رگبی کے میدان سے کہیں آگے تک لچک اور عزم کا درس دیتی ہے۔

