یوکرین کے جنوبی علاقے میں جب ایک مقامی اسکول پر جو امدادی سامان کی تقسیم کا مرکز بنا ہوا تھا، براہ راست بم گرائے گئے تو مقامی آبادی پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ بی بی سی نیوز کے مطابق اس واقعے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن کی تصدیق یوکرین کے ریاستی ایمرجنسی سروس ڈی ایس این ایس نے کی۔

رپورٹ کے مطابق زپوریژیا کے علاقائی سربراہ میخائیلو سیمیکین نے بتایا کہ کم از کم 9 وزنی فضائی بم اس بستی پر گرے، جن کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہوئے اور ابتدائی طور پر 27 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے بتایا کہ اسکول پر پہلے حملے کے بعد ایک دوسرا حملہ اس مقام پر کیا گیا جہاں لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔ صدر زیلینسکی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ روسی فوج اس بات سے بخوبی آگاہ تھی کہ مقامی لوگ وہاں ہر ہفتے امداد لینے آتے ہیں، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس کشیدگی میں کمی نہیں چاہتا۔

میخائیلو سیمیکین نے تصدیق کی کہ اب بھی کچھ لوگ ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں، تاہم علاقے میں مسلسل روسی ڈرون حملوں کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو کئی بار اپنی کارروائیاں روکنا پڑیں۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کا آغاز کیا تھا، اور حالیہ واقعہ روس کے زیر قبضہ جنوبی شہر اولیشکی سے شہریوں کے انخلا کے ایک مشترکہ روسی یوکرین آپریشن کے بعد پیش آیا ہے۔

اس کی اہمیت

بین الاقوامی تنازعات میں سویلین انفراسٹرکچر اور امدادی مراکز پر حملے جنگ کے دوران عام شہریوں کو اٹھانے والے بھاری جانی نقصان کو بے نقاب کرتے ہیں۔ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ اور ریسکیو عملے کو لاحق خطرات عالمی جنگی زونز میں سنگین انسانی چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں۔