روس کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اب جنگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جہاں اہم ڈیٹا سینٹرز پر ہونے والے حملوں کے بعد کروڑوں افراد کو ممکنہ خلل کا سامنا ہے۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، روس کے سب سے بڑے سرچ انجن یاندیکس کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا ہے جب اس کے 5 میں سے 2 بڑے ڈیٹا سینٹرز پر مسلسل دو روز تک یوکرینی ڈرون حملے کیے گئے۔
بی بی سی نیوز کے مطابق، یاندیکس نے تصدیق کی ہے کہ ریازان کے علاقے ساسووہ میں واقع اس کا مرکز رات کے وقت ہونے والے ڈرون حملے میں شدید نقصان کا شکار ہوا، جس کے بعد وہاں تمام سرگرمیاں مکمل طور پر معطل کرنا پڑیں۔ ماسکو کے جنوب مغرب میں واقع کالوگا کے دوسرے ڈیٹا سینٹر کو جمعہ کی صبح کے حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کا کچھ بنیادی ڈھانچہ ناکارہ ہو گیا۔ بی بی سی نیوز کے توسط سے روسی خبر رساں ادارے تاس کو دیے گئے بیان میں یاندیکس نے تصدیق کی کہ مصنوعی ذہانت کے کچھ چیٹ بوٹ فنکشنز عارضی طور پر دستیاب نہیں ہیں اور سمارٹ ہوم کے آلات کو بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم مکمل نقصان کا تخمینہ ابھی واضح نہیں ہے۔
بی بی سی نیوز کے مطابق، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بیان دیا ہے کہ یہ حملے یوکرین کے ڈیٹا سینٹرز پر ہفتوں تک جاری رہنے والے روسی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ یوکرین کی وزارت دفاع نے بی بی سی نیوز کو تصدیق کی ہے کہ ان حملوں سے روس کو نقصان کی مرمت کے لیے وسائل منتقل کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے، جبکہ کیف کا کہنا ہے کہ یہ حملے ماسکو کی جنگی مشینری کی آمدنی کے ذرائع کو نشانہ بناتے ہیں۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، کالوگا کی تنصیب روس کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹرز میں سے ایک ہے جو 130000 مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے، جبکہ ساسووہ کے مقام پر وہ دو سپر کمپیوٹر موجود ہیں جو کمپنی کے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کی تیاری کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کے مطابق، یاندیکس روس کا مقبول ترین سرچ انجن چلانے کے ساتھ ساتھ کھانے کا آرڈر دینے اور ٹیکسی کی رائیڈز فراہم کرنے والی ایسی ایپس بھی چلاتا ہے جن سے کروڑوں افراد استفادہ کرتے ہیں۔ تنازعے کے جاری رہنے کے دوران روس اور یوکرین دونوں نے ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں تیزی کی ہے۔ بی بی سی نیوز نے بتایا کہ اس سے قبل ایک روسی ڈرون نے کیف کے ایک کاروباری مرکز کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہوئے، ایک ڈیٹا سینٹر کو نقصان پہنچا اور اس خطے کے لگ بھگ 100000 گھرانوں میں انٹرنیٹ معطل ہو گیا۔ ان واقعات کے جواب میں کچھ یوکرینی کمپنیوں نے اپنے ڈیٹا کو متاثرہ سرورز سے باہر کے ممالک کی تنصیب میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ بی بی سی نیوز کے مطابق ماسکو اپنے حملوں کو درست قرار دیتا ہے۔
اس کی کیا اہمیت ہے
بین الاقوامی مبصرین اور عام شہریوں کے لیے، اہم انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید مسلح تنازعات کے دوران ڈیجیٹل نیٹ ورکس کتنے غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔ سرچ انجن، رائیڈ ہیلنگ ایپس اور مصنوعی ذہانت کے ٹولز جیسی ضروری خدمات کو جب ڈیٹا سٹوریج کے مراکز پر حملوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، تو عالمی ڈیجیٹل نظام کو یہ احساس ہوتا ہے کہ آن لائن خدمات کس قدر آپس میں جڑی ہوئی اور نازک ہو چکی ہیں۔
آگے کیا ہوگا
یاندیکس کی ٹیمیں اپنی خدمات کو آن لائن رکھنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں، تاہم کمپنی نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ متاثرہ ڈیٹا سینٹرز کی مکمل بحالی کی پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہے۔

