سربیا کی سیاست میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے جہاں طویل عرصے سے اقتدار میں موجود حکمران جماعت کے خلاف نوجوان طلبہ میدان میں آ گئے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سربیا میں 25 اکتوبر کو قبل از وقت پارلیمانی انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جو صدر الیگزینڈر ووچیچ کی سربین پروگریسو پارٹی (SNS) کے 14 سالہ طویل اقتدار کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق یہ انتخابات اصل میں 2027 کے آخر میں ہونا طے تھے، لیکن صدر الیگزینڈر ووچیچ نے ستمبر میں اپنی دوسری مدت صدارت کے اختتام سے قبل ہی استعفا دے دیا اور وزیراعظم کے عہدے کے لیے اپنی جماعت کی انتخابی مہم کی قیادت سنبھال لی، جس کے بعد اس اہم سیاسی معرکے کا راستہ صاف ہوا۔

حکمران جماعت کے مقابلے کے لیے سامنے آنے والی سب سے بڑی طاقت طلبہ کی حمایت یافتہ 'اسٹوڈنٹ لسٹ - اسٹوڈنٹس ون' ہے، جس میں ایسے امیدوار شامل ہیں جن کا سیاست کا کوئی پرانا تجربہ نہیں ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس اتحاد میں اساتذہ، ماہرین تعلیم اور مختلف شعبوں کے پروفیشنلز شامل ہیں جو قانون کی حکمرانی، کرپشن کے خاتمے اور اداروں کی بحالی کے نعروں پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس طلبہ تحریک کی بنیاد نومبر 2024 کے ایک دلخراش واقعے کے بعد پڑی، جب نووی ساد کے ریلوے اسٹیشن پر کنکریٹ کی چھت گرنے سے 16 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس سانحے کے بعد انصاف اور ذمہ داروں کے کٹہرے میں لانے کے مطالبات نے دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر میں کرپشن اور حکومتی کارکردگی کے خلاف ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر لی۔

سلوبودان میلوسیوچ کے دور کے خاتمے کے بعد یہ مظاہرے ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی اجتماعات میں شمار ہوتے ہیں، جن میں طلبہ نے روایتی اور کمزور سمجھے جانے والے اپوزیشن حلقوں کے برعکس ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ بیلگریڈ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار فلاسفی اینڈ سوشل تھیوری کی سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ جیلینا واسیلجیویچ نے الجزیرہ کو بتایا کہ سیاسی حرکیات اب نچلی سطح پر بدل چکی ہیں اور نوجوان ملک کی کئی دہائیوں کی سب سے بڑی سماجی تحریک کا مرکز بن چکے ہیں۔

اس کی اہمیت کیا ہے؟

پاکستان اور دنیا بھر کے قارئین کے لیے یورپی جمہوریتوں میں ہونے والی یہ سیاسی تبدیلیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ طویل عرصے سے قائم سیاسی نظاموں کو چیلنج کرنے میں نوجوانوں کی زیر قیادت سماجی تحریکیں اور نچلی سطح کی عوامی شرکت کس قدر اہم ہوتی جا رہی ہے۔ دنیا بھر میں جب عوام گڈ گورننس، احتساب اور ادارہ جاتی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں، تو سربیا کے یہ انتخابات یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح عوامی تحریکیں روایتی سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر سکتی ہیں۔