ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک سربیا کی سیاست کا محور رہنے والے الیگزینڈر ووچک نے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، تقریباً دو سال تک جاری رہنے والی نوجوانوں کی طاقتور تحریک کے بعد اتوار کو ہونے والے ان انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ گزشتہ 30 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ووچک نے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی سربین پروگریسو پارٹی (SNS) کو 250 رکنی پارلیمنٹ میں 105 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ دوسری طرف، حریف سٹوڈنٹ لسٹ کے 135 سے 140 نشستیں حاصل کرنے کا امکان ہے، جس پر ووچک کو یہ کہنا پڑا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ ہم یہ انتخابات ہار گئے ہیں۔

الجزیرہ نے بتایا کہ اس طلبہ تحریک کا آغاز یکم نومبر 2024 کو نوفی ساد میں ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے کے ایک المناک واقعے کے بعد ہوا تھا جس میں 16 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ مقامی سطح پر شروع ہونے والا یہ احتجاج جلد ہی ایک بڑی عوامی لہر میں بدل گیا اور سٹوڈنٹ لسٹ سیاسی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر گیا۔ اس پلیٹ فارم نے نوفی ساد کی فیکلٹی آف میڈیسن کے پروفیسر ایلیا سردانوچ کی قیادت میں بدعنوانی کے خاتمے، سرکاری اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کرنے اور شہریوں کے حقوق کی بحالی کے وعدوں پر مہم چلائی۔

الجزیرہ کے مطابق، انتخابی مہم کے دوران ووچک نے ان مظاہرین کو، جن میں یونیورسٹی کے اساتذہ، ڈاکٹر اور مزدور بھی شامل تھے، رکاوٹیں کھڑی کرنے والے قرار دیا تھا اور ان پر سربیا کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق، الیگزینڈر ووچک 1970 میں بلغراد میں پیدا ہوئے اور انہوں نے بلغراد یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لا سے گریجویشن کیا۔ انہوں نے 1993 میں سیاست میں قدم رکھا اور وویسلاف شیشیل کی زیرِ قیادت قوم پرست جماعت سربین ریڈیکل پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ الجزیرہ نے سربیا کی پارلیمنٹ میں جولائی 1995 میں (سیبرینیسا کے واقعے کے نو دن بعد) نیٹو کے حملوں کے امکان سے متعلق ووچک کے ایک بیان کا بھی ذکر کیا۔

الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ ووچک کے سابق سرپرست وویسلاف شیشیل کو 1990 کی دہائی کی بلقان جنگوں کے دوران غیر سربیائی باشندوں پر مظالم، جلاوطنی اور زبردستی نقل مکانی کے الزامات میں بین الاقوامی ٹریبونل کی اپیلز چیمبر کی طرف سے 2018 میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ بعد کے برسوں میں، ووچک نے یورپی یونین، روس، چین اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعلقات برقرار رکھنے والے ایک عملیت پسند رہنما کے طور پر اپنی شناخت بنائی، یہاں تک کہ انہیں اس حالیہ انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اہمیت کیوں رکھتی ہے

بین الاقوامی جمہوری عمل کا مشاہدہ کرنے والے قارئین کے لیے، سربیا کے یہ انتخابات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کس طرح عوامی بیداری اور نوجوانوں کی قیادت پر مبنی پلیٹ فارمز طویل عرصے سے جڑ پکڑنے والے سیاسی ڈھانچے کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت بنیادی ڈھانچے کی حفاظت، اداروں میں شفافیت اور اچھی حکمرانی کے لیے عوام کے غصے کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے، جو دنیا بھر میں وہاں گونجتی ہے جہاں شہری طویل عرصے سے برسرِ اقتدار حکومتوں سے احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں۔