الجزیرہ اور رروئٹرزٹرز کی رپورٹ کے مطابق شمالی آئرلینڈ کی پولیس نے سن فین کے نمائندوں سے رابطہ کیا ہے تاکہ اس احتجاج کی تحقیقات کی جا سکیں جس کی وجہ سے پروٹسٹنٹ جماعت کی پریڈ کو ایک کیتھولک علاقے سے گزرنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس ابھرتے ہوئے سیاسی بحران نے خطے کے اقتدار میں شراکت کے نظام کو براہ راست متاثر کیا ہے اور حکمراں جماعتوں کے درمیان گہرے اختلافات کو ظاہر کر دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق سن فین نے جمعرات کو فیس بک پر جاری ایک بیان میں تصدیق کی کہ اس کے کئی ارکان اور نمائندوں کو غیر قانونی احتجاج کے سلسلے میں پولیس کی طرف سے خطوط موصول ہوئے ہیں۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ وہ گارواغی روڈ کے ان مکینوں کے ساتھ کھڑی ہے جنہیں اشتعال انگیزی اور ناپسندیدہ اورینج مارچ کے خطرے کا سامنا تھا، اور مزید کہا کہ رہائشیوں کو پرامن اور فرقہ وارانہ خوف و ہراس سے پاک ماحول میں جینے کا حق ملنا چاہئے۔
الجزیرہ نے بتایا کہ سن فین کی فرسٹ منسٹر مشیل او نیل اور پارٹی صدر میری لو میکڈونلڈ دونوں نے اس مظاہرے میں شرکت کی تھی۔ دوسری جانب رائٹرز کے مطابق حریف ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی یو پی) نے احتجاج میں حصہ لینے والے سن فین کے قانون سازوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں ڈی یو پی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی سیاسی عہدہ قانون سے بالاتر نہیں ہوتا اور قانون سب کے لئے برابر ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ روکے گئے مارچ کے دوران جرائم میں ملوث ہونے کے مناسب شبے والے افراد کو انٹرویو کے لئے خطوط بھیجے جائیں گے۔
پس منظر
رائٹرز کے مطابق شمالی آئرلینڈ کی ہائی کورٹ نے 28 سال میں پہلی بار پروٹسٹنٹ اورینج آرڈر کو کیتھولک گارواغی روڈ پر مارچ کرنے کی اجازت دی تھی۔ 1998 کے گڈ فرائیڈے معاہدے سے پہلے، اورینج آرڈر کی جانب سے اس علاقے میں مارچ کرنے کی سالانہ کوششوں کی وجہ سے برطانوی زیر انتظام اس خطے میں بڑے پیمانے پر بدامنی پھیل جاتی تھی یہاں تک کہ اسی سال اس راستے پر باضابطہ پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
اس معاملے کی اہمیت
بین الاقوامی طرز حکومتی اور اتحادی سیاست کا مشاہدہ کرنے والے قارئین کے لئے یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تاریخی تقسیم سے سنبھلنے والے خط população میں اقتدار کی تقسیم کے معاہدے کتنے نازک اور حساس ہوتے ہیں۔ موجودہ کشیدگی یہ دکھاتی ہے کہ زمینی سطح پر کمیونٹی کے تنازعات کتنی تیزی سے قانون ساز بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں جو حریف سیاسی دھڑوں کے درمیان حکومتی استحکام کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

