صبح اٹھتے ہی وہ سیدھی کھڑی بھی نہیں ہو سکتی تھیں، جسم دوہرا ہو چکا تھا اور چلنا پھرنا بھی محال تھا۔ بی بی سی اسپورٹ کے مطابق، یہ وہ جسمانی تکلیف تھی جو انگلینڈ کی مایہ ناز نیٹ بال کھلاڑی جیو مینٹر کو 2019 میں اپنے انڈے (ایگز) محفوظ کرانے کے عمل کے بعد جھیلنا پڑی۔ کھیل کے میدان میں تاریخ رقم کرنے والی اس کھلاڑی کے لیے یہ ایک انتہائی ذاتی فیصلہ تھا، جس کا مقصد اپنے کیریئر کی سخت مصروفیات اور مستقبل میں خاندان شروع کرنے کی خواہش کے درمیان توازن قائم کرنا تھا۔
بی بی سی اسپورٹ کی رپورٹ کے مطابق، جیو مینٹر نے 35 سال کی عمر میں، جب وہ میلبورن میں مقیم تھیں اور کسی رشتے میں نہیں تھیں، یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اس عمل کے لیے کھیل کے آف سیزن کا انتخاب کیا تاکہ پری سیزن ٹریننگ شروع ہونے سے پہلے ان کے جسم کو بحال ہونے کے لیے پورا وقت مل سکے۔ اپنے شاندار کیریئر کے دوران انہوں نے 175 انٹرنیشنل میچوں میں انگلینڈ کی نمائندگی کی، 6 ورلڈ کپ کھیلے اور 2018 میں کامن ویلتھ گیمز کا گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ انہوں نے بی بی سی اسپورٹ کو بتایا کہ وہ یہ دیکھنا چاہتی تھیں کہ انتہائی درجے کی سپورٹ سرگرمیاں ان کی زرخیزی کو کیسے متاثر کرتی ہیں، اور وہ اواخر کی بجائے اپنی تیس کی دہائی کے شروع کے انڈے استعمال کرنا چاہتی تھیں۔
پس منظر
بی بی سی اسپورٹ نے بتایا ہے کہ انڈے محفوظ کرانے کے عمل میں کسی خاتون کے انڈے نکال کر مستقبل میں ممکنہ استعمال کے لیے فریز اور محفوظ کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ اسے عام طور پر زچگی کو مؤخر کرنے اور زرخیزی بچانے کا ایک ذریعہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ عمل مستقبل میں حمل کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔ کھیل کی دنیا میں یہ رجحان تیزی سے عام ہو رہا ہے، اور بی بی سی اسپورٹ کے مطابق چچیلسیسی اور اسپیشش فٹ بال فیڈریشن جیسے ادارے اب ان کھلاڑیوں کو سپورٹ فراہم کر رہے ہیں جو اپنے انڈے فریز کرانا چاہتی ہیں۔
اس کی اہمیت کیوں ہے؟
کھیلوں سے وابستہ افراد اور کیریئر کی دوڑ میں شامل تمام لوگوں کے لیے پیشہ ورانہ عزائم اور ذاتی زندگی کے سنگ میلوں کے درمیان توازن قائم کرنا ایک نازک اور مشکل چیلنج ہے۔ اعلیٰ درجے کے کھلاڑیوں کے یہ تجربات اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ جن لوگوں کا کیریئر ان کی جوانی کے بہترین برسوں میں عروج پر ہوتا ہے، انہیں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے کتنے کٹھن فیصلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال ذاتی صحت سے متعلق آگاہی اور اداروں کی جانب سے معاون پالیسیوں کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

