اسٹارلنک کی بحالی اور جنگی صورتحال

الجزیرہ اور بی بی سی نیوز کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایلون مسک نے یوکرین کے لیے اسٹارلنک کی رسائی بحال کر دی ہے۔ یہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس یوکرین کے دفاعی نظام اور فضائی کارروائیوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ وال اسٹریٹ جورنال کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے خود ایلون مسک کو ٹیلیفون کر کے نیٹ ورک پر رفتار اور رسائی کی پابندیاں ہٹانے کی ہدایت کی تھی، تاہم صدر ٹرمپ نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

الجزیرہ کے مطابق یوکرینی حکام نے 13 اکتوبر کو اچانک اسٹارلنک سروسز میں پابندیوں کا اعلان کیا تھا جس سے ملک کا دفاعی ڈھانچہ مشکلات کا شکار ہو گیا تھا۔ اگرچہ سسٹم دوبارہ بحال ہو گیا تھا لیکن رابطہ کاری اب بھی غیر یقینی کا شکار رہی۔ بی بی سی نیوز کے مطابق رفتار کی ان حد بندیوں، جن کے تحت سسٹم کی رفتار تقریباً 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود کر دی گئی تھی، نے یوکرین کے جوابی ڈرونز اور انٹرسیپٹرز کو روسی حملوں کے خلاف کم مؤثر بنا دیا تھا۔

اہم حقائق اور ردعمل

الجزیرہ کے مطابق وال اسٹریٹ جورنال کی رپورٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا کہ میں نے فون کیا یا کسی اور نے فون کیا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے اسے واپس بحال کر دیا۔ ٹرمپ نے اس بات کی بھی تردید کی کہ انہوں نے یا مسک نے اصل میں یہ پابندیاں عائد کی تھیں، اور جمعہ کے روز بیان دیا کہ صورتحال ہمیشہ جیسی ہی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز بیان دیا تھا کہ اسٹارلنک کی رفتار اور رسائی سے متعلق فیصلے ایک نجی تجارتی معاہدے کے تحت طے پاتے ہیں اور اس کا تعلق ایلون مسک سے ہے۔ تاہم ایلون مسک نے 14 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ عسکری درجے کا ورژن اسٹار شیلڈ امریکی حکومت کی ملکیت اور کنٹرول میں ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی پابندیوں کا فیصلہ امریکی فوج اور صدر کرتے ہیں۔

بی بی سی نیوز نے بتایا کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیینسکی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ عسکری نظام کی رفتار ابھی تک مکمل طور پر 400 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بحال نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکام اس مسئلے پر کام کر رہے ہیں اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے جواب کے منتظر ہیں۔

پس منظر اور اہمیت

الجزیرہ کے مطابق فروری 2022 میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے شروع کیے گئے مکمل حملے کے بعد سے یوکرین روس کے ساتھ ایک طویل اور کٹھن جنگ میں الجھا ہوا ہے۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسٹارلنک اور اسٹار شیلڈ کے نیٹ ورکس نچلے زمین کے مدار میں موجود 10000 سیٹلائٹس پر انحصار کرتے ہیں تاکہ دور دراز کے علاقوں اور میدانِ جنگ میں اہم رابطہ کاری فراہم کی جا سکے، جہاں جدید جنگیں ڈرونز چلانے کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ پر انحصار کرتی ہیں۔

بی بی سی نیوز نے یہ بھی بتایا کہ یہ پابندیاں اس وقت سامنے آئیں جب صدر ٹرمپ نے زیینسکی پر زور دیا کہ وہ روسی تیل کی تنصیبات پر حملے بند کریں، جن کے بارے میں ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ اس سے عالمی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ نے روس پر کچھ پابندیوں میں نرمی کی اور امریکی مارکیٹ کے لیے روسی ڈیزل درآمد کرنے پر اتفاق کیا، جن اقدامات پر یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں نے تنقید کی۔

بین الاقوامی مبصرین اور عالمی ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے بنیادی ڈھانچے کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے یہ صورتحال تنازع کے علاقوں میں اہم دوہری استعمال کی ٹیکنالوجیز چلانے والے نجی اداروں کے پاس موجود زبردست جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ کو اجاگر کرتی ہے۔ فعال جنگ کے دوران ریاستی فوجوں کا تجارتی سیٹلائٹ نیٹ ورکس پر انحصار قومی سلامتی، سپلائی چینز اور نجی کارپوریٹ گورننس کے حوالے سے پیچیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔