جب خطے کی سلامتی کا نقشہ بدلتا ہے تو پارلیمنٹس کے فیصلے بھی تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ انکارہ نے باضابطہ طور پر ریاض اور اسلام آباد کے دفاع کے ساتھ اپنی عسکری وابستگی طے کر لی ہے۔ جیو نیوز اور رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ کی مقننہ نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کی توثیق کر دی ہے، جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل ایک سہ فریقی اجتماعی سکیورٹی معاہدہ ہے۔

رواں سال اگست میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت کسی بھی رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ رائیٹرز کی جانب سے دیکھے گئے متن کے مطابق معاہدے کا آرٹیکل 2 اس بات کا پابند بناتا ہے کہ عسکری جارحیت کی صورت میں فریقین فوری طور پر دستیاب باہمی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مدد فراہم کریں گے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق حکمراں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے قانون ساز ضیا آلتونیالدیز نے پارلیمانی بحث کے دوران اس بات پر زور دیا کہ اس معاہدے کا مقصد خطے میں سکیورٹی تعاون کو وسعت دینا اور تنازعات کی روک تھام ہے، اور اس کا ہدف کوئی تیسرا ملک نہیں ہے۔

پس منظر

جیو نیوز اور رائیٹرز کے مطابق یہ سہ فریقی معاہدہ سعودی عرب پر ہونے والے حوثی حملوں کے تناظر میں تشکیل دیا گیا تھا۔ معاہدے کا پہلا آرٹیکل فریقین سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ علاقائی سالمیت، خود مختاری یا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔ یہ باہمی دفاعی شق نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہت رکھتی ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتی ہے جو انفرادی یا اجتماعی دفاع کے حق کو اجاگر کرتا ہے۔ رائیٹرز نے بتایا کہ حکمراں جماعت کے ایک قانون ساز نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ترکیہ سعودی عرب میں فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کے لیے ایک الگ مینجمنٹ بھی پارلیمنٹ میں پیش کرے گا۔ تعاون کا دائرہ کار اور نوعیت دستیاب وسائل اور فوجی صلاحیتوں کی روشنی میں باہمی مشاورت سے طے کی جائے گی۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

عام مشاہدین کے لیے یہ معاہدہ تینوں اہم مسلم اکثریتی ریاستوں کے درمیان ایک طویل المدتی اور پائیدار عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ رائیٹرز کی جانب سے نقل کردہ شرائط کے مطابق نفاذ کے پہلے 10 سال کے دوران کوئی بھی فریق اس سے الگ نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد علیحدگی کے لیے کم از کم تین ماہ پہلے سفارتی ذرائع سے تحریری نوٹس دینا ہوگا، تاہم اس سے قبل کے منصوبے متاثر نہیں ہوں گے۔ مزید برآں، اس فریم ورک کے تحت شیئر کی جانے والی خفیہ معلومات کی مکمل رازداری کو یقینی بنایا گیا ہے اور فریقین کی متفقہ منظوری کے بغیر کسی بیرونی ریاست، کمپنی یا فرد کو یہ معلومات فراہم کرنے کی سختی سے ممانعت ہے۔