پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لیے طویل انتظار کے بعد بالآخر الیکشن کمیشن نے پہلے مرحلے کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے سماعت کے بعد پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے 7 فروری 2027 کی تاریخ مقرر کرنے کا فیصلہ سنایا۔ یہ فیصلہ پنجاب کے چیف سیکرٹری کی جانب سے پیش کی گئی درخواست کو منظور کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، پنجاب حکومت نے ابتدائی طور پر 15 دسمبر 2026 سے 15 جنوری 2027 کے درمیان انتخابات کرانے پر غور کیا تھا۔ تاہم، صوبائی کابینہ کی کمیٹی نے سموگ، شدید دھند، موسم کی خرابی، رمضان المبارک کی آمد اور اساتذہ کی عدم دستیابی جیسے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اپریل 2027 کی تجویز دی تھی۔ بعد ازاں، صوبائی حکومت نے جنوری یا فروری 2027 کے لیے نظرثانی شدہ شیڈول کی درخواست کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ فروری تک موسم کی صورتحال بہتر ہو جاتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد فروری کی تاریخ پر مہر ثبت کر دی۔

خیبر پختونخوا میں انتخابی عمل کی معطلی

پنجاب میں تاریخ کے اعلان کے برعکس، خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا عمل فی الحال روک دیا گیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق، الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت کے 4 نومبر کے اس حکم نامے کے بعد یہ فیصلہ کیا جس کے تحت آئین کے آرٹیکل 140A کو معطل کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار مزید اضلاع تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے ان اضلاع میں انتخابی پروگرام تیار کرنے کی ہدایت کی تھی جہاں حلقہ بندیوں کا کام مکمل ہو چکا تھا، تاہم اب وفاقی حکم نامے کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔

نچلی سطح پر جمہوریت اور عوامی مسائل

پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کو عوامی نمائندگی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، کیونکہ گلی محلوں کے مسائل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کا براہ راست تعلق اسی نظام سے ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کا مقصد تمام امیدواروں اور ووٹرز کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ دوسری جانب، خیبر پختونخوا میں انتخابی عمل کی معطلی وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان پیچیدہ قانونی اور انتظامی معاملات کو ظاہر کرتی ہے۔ بنوں، لکی مروت، مہمند، اورکزئی اور شمالی وزیرستان جیسے اضلاع میں پہلے ہی 11 اکتوبر کے وفاقی حکم کے تحت انتخابات کو استثنیٰ دیا گیا تھا۔