اڈیالہ جیل کی دیواروں کے پیچھے سے آنے والی ایک خبر نے پورے ملک کو سوچ میں ڈال دیا ہے کہ کیا واقعی سابق وزیراعظم عمران خان کی زندگی خطرے میں ہے؟ سوشل میڈیا پر ان کے اہلخانہ کے خوفناک دعووں اور ان کے اپنے وکیل کے محتاط بیان نے ایک ایسا معمہ کھڑا کر دیا ہے جس کا جواب ہر کوئی جاننا چاہتا ہے۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اس تمام تر تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب عمران خان کی ہمشیرہ روبینہ خان نے قاسم خان کے ذریعے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا۔ اس بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کا بلڈ پریشر اچانک 192 تک پہنچ گیا ہے، جو کہ انسانی زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ اہلخانہ نے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر ان کے ذاتی معالج کی موجودگی میں کسی آزاد طبی ادارے میں منتقل کیا جائے، ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دی کہ جیل کی تنہائی ان کی جان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم، اس معاملے میں اس وقت نیا موڑ آیا جب عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے ان طبی دعووں سے خود کو الگ کر لیا۔ جیو نیوز کے مطابق، سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ان کا کردار خالصتاً پیشہ ورانہ اور قانونی ہے اور وہ کسی کے لیے پیغام رسانی کا کام نہیں کر رہے۔ ان کے اس بیان نے فیملی کے دعووں پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دوسری جانب، حالات سے واقف دیگر ذرائع نے ایک بالکل مختلف تصویر پیش کی ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ملاقات کے دوران اپنے بلڈ پریشر کے ایک پرانے واقعے کا تذکرہ تو کیا تھا جب وہ 190 تک چلا گیا تھا، لیکن فی الوقت وہ بالکل تندرست نظر آ رہے ہیں اور کوئی ہنگامی طبی صورتحال نہیں ہے۔ ان ذرائع کے مطابق، عمران خان اپنی صحت سے زیادہ اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آنکھوں کی تکلیف کے بارے میں فکرمند دکھائی دیے۔
پس منظر
جیو نیوز کے مطابق، یہ تمام صورتحال 2 نومبر کو اڈیالہ جیل میں ہونے والی ایک قانونی ملاقات کے بعد پیدا ہوئی۔ سلمان صفدر نے بتایا کہ جیل حکام نے عمران خان، بشریٰ بی بی اور ان کی قانونی ٹیم کے درمیان 40 منٹ کی ملاقات کرائی۔ یہ ملاقات کئی لحاظ سے اہم تھی کیونکہ وکیل کی عمران خان سے 7 ماہ بعد اور بشریٰ بی بی سے 11 ماہ بعد یہ پہلی ملاقات تھی۔ اس دوران دونوں نے اپنے وکیل کو جیل کے حالات اور قانونی معاملات پر بریفنگ دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روبینہ خان یا قاسم خان نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ ان تک بلڈ پریشر کی یہ تشویشناک اطلاع کس نے پہنچائی، جس کی وجہ سے فیملی اور وکیل کے بیانات میں واضح فرق نظر آ رہا ہے۔
اس خبر کی اہمیت
پاکستان کے عام شہریوں اور سیاسی مبصرین کے لیے کسی بھی بڑے سیاسی رہنما کی صحت سے متعلق متضاد خبریں نہ صرف عوامی بے چینی کا باعث بنتی ہیں بلکہ اس سے معلومات کی تصدیق کے نظام پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ جب ایک ہی شخصیت کے حوالے سے فیملی اور قانونی نمائندے الگ الگ باتیں کریں، تو جیل کے اندرونی حالات کے بارے میں ابہام مزید گہرا ہو جاتا ہے۔
فی الحال اس معاملے پر کسی سرکاری طبی معائنے یا نئے اعلان کا انتظار ہے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔

