کیا شمالی افریقہ میں ہونے والی ایک سفارتی پیش رفت بحیرہ روم کے پیچیدہ جغرافیائی سیاسی نقشے کو بدل سکتی ہے؟ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ترکیہ نے لیبیا میں اپنے سابقہ حریفوں سے 2019 کے متنازع سمندری سرحدوں کے معاہدے کی توثیق حاصل کر لی ہے، جو اب خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کا امتحان بن رہی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، طبرق میں قائم لیبیا کی مشرقی پارلیمنٹ نے اس معاہدے کی مخالفت کا سلسلہ ختم کرتے ہوئے انقرہ اور طرابلس کی تسلیم شدہ حکومت کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ اس تبدیلی کے بعد ترکیہ کی وزارتِ قومی دفاع نے قاہرہ کو بھی سمندری حدود کے معاہدے کی پیشکش کی ہے، جس کے تحت مصر کو ہزاروں مربع کلومیٹر کا سمندری رقبہ مل سکتا ہے۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ترکیہ اور مشرقی لیبیا کی قیادت ماضی میں ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں اور انقرہ نے 2019-2020 کے دوران طرابلس پر ہونے والے اس حملے کو پسپا کرنے میں مدد دی تھی جس کی قیادت خلیفہ حفتر کر رہے تھے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ترکیہ نے مصر کے ساتھ بھی تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی ہے، جن میں پہلے کشیدگی پائی جاتی تھی۔ تاہم ترکیہ، لیبیا، یونان، قبرص اور مصر کے درمیان سمندری حدود کے اوورلیپنگ دعوے طویل عرصے سے علاقائی سفارت کاری کو پیچیدہ بناتے رہے ہیں۔ جہاں انقرہ کا یہ مؤقف ہے کہ 2019 کا یہ سمندری معاہدہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے، وہیں یونان، قبرص اور مصر کا یہ مؤقف رہا ہے کہ یہ معاہدہ ان کے خودمختار حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
الجزیرہ نے بتایا ہے کہ اس سفارتی پیش قدمی کے ساتھ ساتھ عسکری اور انٹیلی جنس رابطے بھی جاری ہیں، جن میں ترک حکام کی مغربی اور مشرقی دونوں لیبیائی دھڑوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں شامل ہیں۔
یہ اہم کیوں ہے
پاکستان سے بین الاقوامی امور کا مشاہدہ کرنے والے قارئین کے لیے بحیرہ روم کی سفارت کاری میں ہونے والی یہ تبدیلیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ طویل عرصے سے چلی آتی علاقائی دشمنیاں کس طرح سیاسی اور سیکیورٹی رابطوں کے ذریعے نئے رُخ اختیار کر سکتی ہیں۔ چونکہ سمندری حدود اور وسائل کے دعوے عالمی سطح پر ایک اہم مسئلہ بنے ہوئے ہیں، اس لیے یہ سفارتی تبدیلیاں اس بات کا ادراک فراہم کرتی ہیں کہ ممالک اپنے معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کا تصادم کیسے سنبھالتے ہیں۔

