جب کوئی طوفان اتنی تیز ہوائیں لے کر آئے جو تیز رفتار ٹرین کو مات دے دیں، تو روزمرہ کی زندگی ایک دم اور خوفناک انداز میں رک جاتی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق سمندری طوفان چمپی نے تائیوان سے ٹکرا کر ایک ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ کم از کم 350 افراد زخمی ہوئے ہیں کیونکہ حکام کی جانب سے تباہ کن ہواؤں کے حوالے سے ہنگامی انتباہ جاری کیے گئے تھے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ طوفان جمعہ کے روز جزیرے کے شمال مشرق سے گزرا، جس نے درخت اکھاڑ دیے، دکانیں اور اسکول بند کرا دیے اور ہزاروں گھروں کی بجلی منقطع کر دی۔ اس شدید موسم کی وجہ سے خطرناک علاقوں سے 4300 سے زائد رہائشیوں کا انخلا بھی کرایا گیا۔

سینٹرل ویدر ایڈمنسٹریشن (سی ڈبلیو اے) کے ماہرِ موسمیات لن پنگ یو نے الجزیرہ کی رپورٹ کردہ بریفنگ میں بتایا کہ آج رات سے کل صبح تک ہر جگہ موسم انتہائی طوفانی اور ہوا دار رہے گا، براہ کرم گھروں کے اندر رہنے کی کوشش کریں۔ سی ڈبلیو اے کے ایک اور ماہر لو کو چن نے مزید کہا کہ طوفان جزیرے کے شمال مشرقی سرے کے قریب سست ہو سکتا ہے، جس سے اس کا اثر طویل ہو جائے گا۔

اپنی طاقت کے عروج پر، چمپی کو مختصر وقت کے لیے سپر ٹائیسون کے طور پر درجہ بند کیا گیا تھا جہاں ہوائیں 300 کلومیٹر فی گھنٹہ (186 میل فی گھنٹہ) کے قریب تھیں، اگرچہ اس کے بعد سے اس کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق یو ایس جوائنٹ ٹائیسون وارننگ سینٹر نے زیادہ سے زیادہ ہوائیں 185 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کیں۔

مزید موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے، اور سی ڈبلیو اے کی پیشگوئی کے مطابق جمعرات سے ہفتے کے درمیان شدید ترین متاثرہ شمال مشرقی علاقوں میں 900 ملی میٹر (35 انچ) تک بارش ہو سکتی ہے۔ ییلان کاؤنٹی میں جمعہ کے روز ہی 400 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق چمپی بحرالکاہل کے طوفانی موسم کا تازہ ترین شدید نظام ہے جسے ایل نینو نے مزید طاقتور بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ ایل نینو سائیکل، جو استوائی بحرالکاہل کو گرم کرتا ہے، اپنے ریکارڈ توڑ رہا ہے اور شدت میں غیر معمولی ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کی سیکرٹری جنرل سیلیس ساولو نے نوٹ کیا کہ یہ واقعہ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران استعمال ہونے والے مانیٹرنگ چارٹس سے باہر ہے، جس کا عروج دسمبر میں متوقع ہے اور اس کے اثرات 2027 اور اس کے بعد تک پھیل سکتے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان اور دنیا بھر کے قارئین کے لیے، شدید موسمی واقعات عالمی آب و ہوا کے بدلتے ہوئے نمونوں کی بڑھتی ہوئی شدت کی ایک واضح یاد دہانی ہیں۔ چونکہ بین الاقوامی موسمیاتی ادارے ایل نینو جیسے غیر معمولی فضائی چکروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اس لیے شدید علاقائی طوفان قدرتی آفات کے سامنے عام آبادی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کی باہم جڑی ہوئی نوعیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

آگے کیا ہوگا

تائیوان کے قریب سے گزرنے کے بعد، چمپی چین اور جاپان کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں پورے خطے میں سینکڑوں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق جمعہ کی دوپہر تک جاپان کے اوکیناوا جزائر میں تقریبا 8400 گھروں کی بجلی چلی گئی تھی، اور طوفان کی پیشگوئی ہے کہ یہ اوکیناوا اور چین کے مشرقی ساحل کے قریب منڈلانے کے بعد جاپان کے مرکزی جزیرے کی طرف شمال مشرق کی طرف مڑ جائے گا۔