برطانوی تاریخ میں پہلی بار کسی برطانوی رہنما نے کھلے عام یہ بات کہی ہے کہ یورپی یونین سے نکلنے کے تاریخی فیصلے کے پیچھے بیرونی مداخلت کارفرما تھی۔ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنم نے دی ریسٹ از پولیٹکس پوڈ کاسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ 2016 کے بریگزٹ ووٹ میں روس نے مداخلت کی، اور انہوں نے فرانس اور جرمنی کے ووٹرز کو بھی اس طرح کے جاری خطرات سے خبردار کیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جن کا حوالہ اے پی اور رائٹرز نے دیا ہے، برنم نے بتایا کہ انہوں نے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ سنبھالتے ہی یہ سوال پوچھا تھا کہ آیا 2016 کے ریفرنڈم میں روس کی جانب سے کوئی مداخلت ہوئی تھی، اور انہیں اس کا واضح اثباتی جواب ملا۔ البتہ برنم نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد یا مخصوص تفصیلات پیش نہیں کیں۔
الجزیرہ کے مطابق، برنم کا مقصد ان معاملات کو ریکارڈ پر لانا ہے تاکہ جرمنی اور فرانس کے ووٹرز یہ سمجھ سکیں کہ کچھ سیاسی حرکیات روس جیسے دشمنوں کی طرف سے ابھاری جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ برلن میں ایک ملاقات کے دوران انہوں نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے بھی روس اور انتہائی دائیں بازو کی پارٹی 'آلٹرنیٹو فار جرمنی' کے درمیان ممکنہ روابط کے بارے میں بات چیت کی۔
اس کے علاوہ، الجزیرہ نے یہ بھی بتایا کہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران برنم نے 2019 کے برطانوی عام انتخابات میں روس کی مداخلت کی کوشش کی مذمت کی تھی۔ الجزیرہ کے مطابق، گزشتہ ماہ برنم نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ برطانیہ کو یورپی یونین کے ساتھ مستقبل کے تعلقات پر از سر نو غور کرنا چاہیے، بشمول بلاک میں دوبارہ شامل ہونے کے امکانات کے، کیونکہ یورپی یونین سے علیحدگی بریگزٹ حامیوں کے اس وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہی جس میں اقتدار واپس لینے کی بات کی گئی تھی، اور اس کے بجائے برطانیہ معاشی طور پر اور تارکین وطن کے معاملے پر کمزور ہوا۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، پارلیمنٹ کی انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی کمیٹی کی 2020 کی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ برطانوی حکومت 2016 کے ریفرنڈم میں روس کی مداخلت کا گہرائی سے جائزہ لینے میں ناکام رہی تھی، اگرچہ اس رپورٹ نے 2014 کے اسکاٹ لینڈ کے آزادی کے ریفرنڈم میں روسی مداخلت کی تصدیق کی تھی۔ دوسری جانب روس نے مغربی جمہوریتوں یا انتخابات اور ریفرنڈم میں مداخلت کی تردید کرتے ہوئے برطانوی الزامات کو روس دشمنی پر مبنی ہسٹیریا قرار دیا ہے۔
اہمیت کیوں رکھتی ہے
پاکستان اور بین الاقوامی برادری کے قارئین کے لیے، جمہوری عمل میں غیر ملکی مداخلت کے الزامات سائبر سیکیورٹی، انفارمیشن وارفیئر اور قومی انتخابات کے شفافیت سے متعلق جاری عالمی مباحثوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ جیسے جیسے اقوام پیچیدہ جیو پولیٹیکل اتحادوں اور معاشی رشتوں سے گزر رہی ہیں، رہنماؤں کی جانب سے بیرونی اثر و رسوخ کے بارے میں عوامی انکشافات جمہوری اداروں کے بیرونی دباؤ کے سامنے کمزور ہونے کو واضح کرتے ہیں۔

