اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں منگل کے روز ہونے والے ووٹنگ کے عمل کے بعد عالمی عدالتِ انصاف (انٹرنیشنل کورٹ آف جسنس) کے لیے پانچ نئے ججوں کو نو سالہ مدت کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے درمیان کئی دور کی رائے شماری اور باہمی مشاورت کے بعد یہ انتخاب عمل میں آیا تاکہ عدالت میں خالی ہونے والی نشستوں کو پر کیا جا سکے۔
الجزیرہ کے مطابق جن نئے ججوں کا انتخاب کیا گیا ہے ان میں برطانیہ سے ڈیپو اکاندے، فرانس سے فرانسوا الانبرون، اردن سے محمود ضیف اللہ حمود، سنگاپور سے رینا لی اور کینیا سے فوب اواوکوواوا شامل ہیں۔ ابتدائی راؤنڈز کے دوران پانچویں نشست پر مقابلہ سخت رہا کیونکہ سلامتی کونسل کی حمایت ایکواڈور کے مارسلو واسکیز برموڈیز کے ساتھ تھی جبکہ جنرل اسمبلی نے کینیا کی فوب اواوکوواوا کی حمایت کی۔ بعد ازاں مارسلو واسکیز برموڈیز کے دستبردار ہونے کے بعد فوب اواوکوواوا نے اقوام متحدہ کے دونوں اداروں کی مطلوبہ حمایت حاصل کر لی۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، عالمی عدالتِ انصاف نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم ہے اور یہ اقوام متحدہ کا بنیادی عدلیہ کا ادارہ ہے۔ اسے 1945 میں ریاستوں کے درمیان قانونی تنازعات کو حل کرنے اور مشاورتی آرا دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ 15 ارکان پر مشتمل اس عدالت میں مختلف ممالک کے جج نو سال کی مدت کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں، اور تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ہر تین سال بعد ایک تہائی ججوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، عدالت کے صدر یوجی ایواساوا نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اس وقت عدالت میں علاقائی تنازعات، انسانی حقوق اور بین الاقوامی معاہدوں سے متعلق 24 مقدمات زیر التوا ہیں۔ ان میں غزہ کی جنگ کے تناظر میں جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ نسل کشی کا مقدمہ اور میانمار اور گیمبیا سے متعلق الگ الگ کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے مبصرین اور عالمی سفارت کاری کو فالو کرنے والے قارئین کے لیے اقوام متحدہ کی اس اعلیٰ ترین عدالت کا فعال رہنا ریاستوں کے باہمی تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے نفاذ کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ عدالت میں زیر التوا مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دنیا بھر کے ممالک اپنے پیچیدہ جغرافیائی سیاسی اور انسانی حقوق کے مسائل کے حل کے لیے عدلیہ کے نظام پر انحصار کر رہے ہیں۔
آگے کیا ہوگا
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق عدالت کی طرف سے 19 نومبر کو میانمار کے خلاف روہنگیا اقلیت پر مبینہ نسل کشی کے معاملے پر گیمبیا کے مقدمے کا فیصلہ سنائے جانے کا شیڈول ہے۔

