ایک سینئر امریکی فوٹو صحافی ہسپتال کے بستر پر زندگی اور موت کی کشمکش میں نہیں بلکہ شدید تکلیف میں ہے، جن کی انگلی حملے میں کٹنے کے قریب ہو گئی اور ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں نقاب پوش حملہ آوروں کے تشدد کا نشانہ بننے والی اس صحافی کے معاملے پر امریکی سفیر برائے اسرائیل مائیک ہکابی نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

الجزیرہ، اے ایف پی اور اے پی کے مطابق، 64 سالہ فوٹو صحافی فلسطینیوں کے سالانہ زیتون کے موسم کی کوریج کر رہی تھیں جب رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع ابو فلاح میں نقاب پوش افراد نے حملہ کیا۔ چشم دید گواہوں کے مطابق حملہ آور بوتلوں اور غلیلوں سے لیس تھے، جنہوں نے صحافی پر تشدد کیا اور ان کا پاسپورٹ، فون، پرس اور تمام سامان چھین لیا۔ ہیدی لیوین نے بتایا کہ جب وہ اپنے کیمرے اور بیگ کو بچانے کی کوشش کر رہی تھیں تو انہیں پے در پے لاتیں ماری گئیں۔ واقعے کے عینی شاہد اور آزاد صحافی جیسپر نیتھانی نے الجزیرہ کو بتایا کہ حملے کے بعد ہیدی لیوین اس حالت میں تھیں کہ وہ کھڑے ہونے کے قابل بھی نہیں تھیں۔

اے پی کی رپورٹ کے مطابق ہیدی لیوین کی انگلی کا آپریشن کیا گیا جو تقریباً الگ ہو چکی تھی، جبکہ ان کی پسلی اور کئی مہروں میں بھی فریکچر آیا۔ الجزیرہ، اے پی اور اے ایف پی نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتھن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے فلسطینی یا انتہائی بائیں بازو کے کارکن ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کسی فریق کا نام لیے بغیر پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔

پس منظر

الجزیرہ، اے ایف پی اور اے پی کے مطابق امریکی سفیر مائیک ہکابی اس سے پہلے بھی اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے امریکیوں پر حملوں پر آواز اٹھا چکے ہیں۔ مائیک ہکابی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ نہتے رپورٹر پر حملہ کرنے والوں کو برسوں جیل میں گزارنے چاہئیں اور انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات، گرفتاری اور مقدمے کا مطالبہ کیا۔ تاہم نیتھن یاہو کے بیانات کے بعد سفیر نے حملہ آوروں کی حتمی شناخت آباد کاروں کے طور پر نہیں کی۔

اہمیت

پاکستان سے بین الاقوامی امور اور آزادی صحافت کا جائزہ لینے والے قارئین کے لیے یہ واقعہ اس خطرے کی عکاسی کرتا ہے جو تنازعات اور زمین کے تنازعات والے علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو لاحق ہے۔ یہ واقعہ بین الاقوامی اتحادیوں، مقامی حکام اور میڈیا کے تحفظ کے درمیان پیچیدہ سفارتی کشمکش کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔