ٹینسیسی کی ایک جیل میں سزائے موت پر عمل درآمد کی ناکام کوشش سے زندہ بچ جانے والی 50 سالہ کرسٹا پائیک نے اپنے قانونی ٹیم کے ذریعے جاری کردہ بیان میں اپنی ہولناک آپ بیتی سنائی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، کرسٹا پائیک کا کہنا ہے کہ اس ہولناک رات کے بعد سے ان کا ایک لمحہ بھی تکلیف کے بغیر نہیں گزرا، انہیں بات کرنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے اور اس پورے عمل کی نااہلی نے انہیں اندر سے توڑ دیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، کرسٹا پائیک اور ان کے دوست نے 1995 میں 19 سالہ ہم جماعت کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔ جرم کے وقت کرسٹا پائیک کی عمر 18 سال تھی، جس کی بنیاد پر انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس طے شدہ پھانسی کا نظارہ کرنے کے لیے مقتولہ کی والدہ بالخصوص فلوریڈا سے سفر کر کے پہنچی تھیں۔

پائیک کے وکلا کا کہنا ہے کہ 30 ستمبر کو فینوباربیٹل نامی زہریلے انجکشن کی دو مختلف خوراکیں دی گئی تھیں جو خون میں شامل ہونے کے بجائے بازوؤں میں جمع ہو گئیں، جس سے ان کے بازو جھلس گئے اور چھالے پڑ گئے۔ الجزیرہ کے مطابق اس کے بعد پائیک کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ کئی دن بے ہوش رہیں، لیکن اس سب کے باوجود وہ اس وقت تنہائی کی قید میں ہیں اور انہیں اب بھی موت کا سامنا ہے۔

ان کی قانونی ٹیم نے ایک وفاقی جج سے درخواست کی ہے کہ پائیک کو دوسرے قیدیوں سے ملنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ ناکام پھانسی کے بعد تنہائی نے ان کے ذہنی سکون کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ وکلا نے ٹینسیسی کے ریپبلکن گورنر بل لی سے اپیل کی ہے کہ ان کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جائے۔ تاہم، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق گورنر بل لی نے گزشتہ ہفتے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ انہیں شبہ ہے کہ جب تک عدالتیں کوئی فیصلہ نہیں کرتیں، یہ سزا برقرار رہے گی۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق، 30 ستمبر کو ہونے والی اس ناکام پھانسی کے دوران فینوباربیٹل نامی دوا کا استعمال کیا گیا تھا جو پائیک کو مارنے میں ناکام رہی اور اس کے نتیجے میں وہ اسپتال پہنچ گئیں۔ اس واقعے نے ٹینسیسی کے طریقہ کار پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔ واقعے کے بعد گورنر نے ایک آزادانہ جائزے کا حکم دیا اور اس سال کی دیگر طے شدہ سزاؤں پر عمل درآمد مؤخر کر دیا۔ اس کے علاوہ، ٹینسیسی ڈیپارٹمنٹ آف کریکشن کے کمشنر فرینک اسٹرادا نے بھی اس واقعے کے بعد اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔

اس معاملے کی اہمیت

بین الاقوامی امور کا مشاہدہ کرنے والے عام قارئین کے لیے، سزائے موت کے ایسے مقدمات اور انتظامی طریقہ کار کی خرابیاں دنیا بھر میں سزائے موت کے قانونی، اخلاقی اور انسانی حقوق کے مباحث کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ واقعہ ان پیچیدہ انتظامی اور عدالتی چیلنجز کو سامنے لاتا ہے جو سزائے موت کے نظام میں خرابیوں کی صورت میں پیدا ہوتے ہیں۔

آگے کیا ہوگا

پائیک کی قانونی ٹیم کو اب ایک وفاقی جج کے اس فیصلے کا انتظار ہے جو دوسرے قیدیوں سے میل جول کی اجازت سے متعلق ہے، اور ساتھ ہی ٹینسیسی کے گورنر بل لی سے بھی جواب کا انتظار ہے جنہوں نے سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کی درخواست دی ہے۔ دریں اثنا، گورنر کی طرف سے ناکام پھانسی کے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا عمل جاری ہے۔