امریکی محکمہ انصاف کے مطابق، دو چینی شہریوں کو امریکی فوجیوں کو بیجنگ کے لیے جاسوسی پرمائل کرنے کی کوشش کا اعتراف کرنے کے بعد قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، 40 سالہ لیرین 'ریان' لائی اور 39 سالہ یوانسے چین کو امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ہر ایک کو 30 ماہ قید اور 3 سال کی مشروط رہائی کی سزا دی گئی۔

الجزیرہ کے مطابق، محکمہ انصاف کے بیان میں بتایا گیا کہ ان افراد نے امریکی قومی سلامتی سے متعلق معلومات کے بدلے کم از کم 30,000 ڈالر مالیت کی نقد رقم 'ڈیڈ ڈراپ' کے ذریعے خفیہ طور پر پہنچانے کا انتظام کرنے کی کوشش کی۔ قومی سلامتی کے امور کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان اے آئزنبرگ نے اس جوڑے کے بارے میں کہا کہ انہوں نے امریکی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور چینی انٹیلی جنس کے کاموں اور بھرتیوں میں مدد کے لیے ایک طویل عرصہ تک جاری رہنے والا اور ڈھٹائی پر مبنی منصوبہ چلایا۔

اہم حقائق

  • الجزیرہ کی جانب سے رپورٹ کردہ عدالت کے دستاویزات کے مطابق، لائی اور چین نے مئی 2021 سے پہلے چین کے محکمہ خارجہ انٹیلی جنس کے بازو، وزارتِ ریاستی سلامتی کے ایجنٹوں کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔
  • محکمہ انصاف کے مطابق، لائی جو کہ سیاحتی ویزے پر امریکہ آئے تھے، انہوں نے چین نامی مستقل رہائشی کو اس منصوبے میں شامل کیا اور ابتدائی طور پر ایک واسطے کا کردار ادا کیا یہاں تک کہ چین کو براہ راست اپنے ہینڈلر سے احکامات ملنے لگے۔
  • مئی 2022 اور اس کے بعد، اس جوڑے نے مجموعی طور پر 30,000 ڈالر کی خفیہ نقد ادائیگیاں کیں اور امریکہ میں موجود افراد کو ہدایت کی کہ وہ مخصوص مقامات پر رقم چھوڑیں تاکہ اسے اٹھایا جا سکے۔
  • الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ملزمان نے جاسوسی کی دیگر اقسام میں بھی حصہ لیا، جس میں بحری تنصیب، فوجی بھرتی ہونے والوں، اور فعال ڈیوٹی پر مامور ملاحوں کی تصاویر حاصل کرنا شامل ہے، جبکہ انہوں نے فوجی اہلکاروں کے بارے میں ذاتی اور سوانحی معلومات بھی جمع کیں۔
  • ان افراد کو دو الزامات میں مجرم قرار دیا گیا: اٹارنی جنرل کو پیشگی اطلاع دیے بغیر کسی غیر ملکی حکومت کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کی سازش، اور پیشگی اطلاع کے بغیر غیر ملکی حکومت کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنا۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق، یہ سزائیں امریکہ اور چین کے درمیان انٹیلی جنس کی وسیع تر کشمکش کا حصہ ہیں۔ اگست کے آخر میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ چین امریکہ کی جاسوسی کرتا ہے، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہم بھی ان کی جاسوسی کرتے ہیں"۔ مزید برآں، جون میں، چین نے جاسوسی کے الزام میں ایک امریکی شہری کی گرفتاری کا اعلان کیا، جو کہ دوہری امریکی اور میانمار کی شہریت رکھنے والے ایک اسکالر من زن کی حراست کی اطلاعات کے ساتھ سامنے آیا، جنہوں نے ماضی میں میانمار کی سیاست پر تنقیدی آراء لکھی تھیں۔

یہ کیوں اہم ہے

بین الاقوامی تعلقات اور عالمی سلامتی کے رجحانات کا جائزہ لینے والے قارئین کے لیے، امریکہ اور چین جیسی بڑی طاقتوں سے وابستہ مقدمات دنیا بھر میں انٹیلی جنس کارروائیوں کی مسلسل اور حساس نوعیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اگرچہ مخصوص قانونی کارروائیاں امریکی عدالتی نظام کے اندر ہوتی ہیں، لیکن سپر پاورز کے درمیان جاسوسی کی جغرافیائی و سیاسی حرکیات اکثر بین الاقوامی سطح پر وسیع تر سفارتی مصروفیت کو متاثر کرتی ہیں۔