انتخابات میں صرف چند دن باقی تھے جب امریکی تاریخ میں پہلی بار وفاقی حکومت کی جانب سے ایسی کوشش کی گئی جس پر عدالت کو سخت فیصلہ دینا پڑا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی جج نے محکمہ انصاف کی وہ درخواست سختی سے مسترد کر دی جس میں کیلیفورنیا کو 20 ہزار ایسے ووٹروں کے ڈاک کے ذریعے آئے ہوئے ووٹ گننے سے عارضی طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ شہری نہیں ہیں۔

امریکی ضلعی جج ڈیوڈ کارٹر نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ امریکی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ وفاقی حکومت نے ریاست اور مقامی حکومت پر دباؤ ڈالا ہو کہ وہ انتخابات کی آمد پر اپنے آئینی انتخابی طریقوں کو چھوڑ دیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کے مبینہ ووٹوں کی تلاش کی کوششیں تیز کی جا چکی ہیں اور کم از کم 13 ریاستوں میں سمن جاری کیے گئے ہیں۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق جج کارٹر نے کہا کہ محکمہ انصاف کی آخری وقت کی اس درخواست نے طویل عرصے سے چلے آ رہے ان آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے جو ریاستوں کو انتخابات کے کنٹرول کا اختیار دیتے ہیں۔ رائٹرز نے بتایا کہ محکمہ انصاف نے 15 اکتوبر کو یہ مقدمہ دائر کیا تھا، جو منگل کو ہونے والے ان انتخابات سے چند ہفتے قبل ایک غیر معمولی قدم تھا جن میں ووٹروں نے اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ کانگریس اور ریاستی و مقامی نمائندوں پر کس پارٹی کا کنٹرول ہوگا۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے 100 سے زائد سمن جاری کیے جن میں کم از کم 13 ریپبلکن اور ڈیموکریٹک حامی ریاستوں میں دسیوں ہزار ووٹروں کے ریکارڈ کا مطالبہ کیا گیا۔ اگرچہ کچھ سمن سال کے آغاز کے ہیں، لیکن زیادہ تر پچھلے تین مہینوں میں جاری کیے گئے، جن سے ایک وسیع وفاقی کوشش کا پتہ چلتا ہے۔ قانونی ماہرین نے رائٹرز کو بتایا کہ ان ریکارڈز کو سخت انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، حالانکہ اس بات کے بہت کم شواہد موجود ہیں کہ غیر ملکی شہریوں کا ووٹ ڈالنا بڑے پیمانے پر ہوتا ہے، اور یہ بات بھی واضح ہے کہ غیر ملکی شہریوں کے لیے امریکی وفاقی انتخابات میں ووٹ ڈالنا غیر قانونی ہے۔

اہمیت کیوں ہے؟

بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے انتخابی انتظامیہ کے ارد گرد کی یہ قانونی جنگیں جمہوری نظام میں وفاقی نگرانی اور ریاستی اختیار کے درمیان پیچیدہ تعلقات کو ظاہر کرتی ہیں۔ جیسا کہ الجزیرہ اور رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے، قانون ساز انتخابات سے پہلے جاری قانونی چیلنجز اور انتظامی سمن یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انتخابی شفافیت اور ووٹنگ کے طریقہ کار سیاسی اور قانونی کشمکش کا ایک مرکزی میدان بنے ہوئے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

رائٹرز کے مطابق محکمہ انصاف نے اس فیصلے کے خلاف فوری طور پر نائنتھ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں اپیل دائر کر دی ہے۔