دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی محاذ پر کشمکش پھر سے گہری ہو گئی ہے، اور اس بار واشنگٹن نے بیجنگ سے ایک اہم تجارتی معاہدے پر فوری عملدرآمد کا سخت مطالبہ کر دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے چینی نائب وزیراعظم ہی لائفنگ سے ملاقات کی ہے، جس میں بوسان تجارتی معاہدے کے بقایا وعدے پورے کرنے پر زور دیا گیا۔
امریکی محکمہ خزانہ کے سرکاری بیان کے حوالے سے الجزیرہ نے بتایا کہ وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بیجنگ کے حالیہ اقدامات پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ مستقبل میں معاشی تعاون کی راہ اسی صورت میں ہموار ہوگی جب بیجنگ زمینی حقائق کے مطابق عملی اقدامات کرے گا۔ امریکہ اس معاہدے پر عملدرآمد کا باریک بینی سے جائزہ لے گا۔ یہ اعلیٰ سطحی رابطہ ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں وائٹ ہاؤس نے 60 ارب ڈالر کے ٹیرف میں کمی کی تجویز دی تھی جس میں امریکی زرعی اجناس کے لیے 17 ارب ڈالر بھی شامل تھے۔
دوسری جانب، چینی وزارت تجارت نے باہمی محصولات میں کمی کی شرط پر امریکہ سے زرعی درآمدات بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ وزارت کے ترجمان ہوانگ لنگ نے الجزیرہ کو بتایا کہ بیجنگ اس بات کے لیے تیار ہے کہ طے شدہ 30 ارب کے بدولت 30 ارب کی باہمی ٹیرف میں کمی کا فارمولا نافذ کیا جائے تو امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق موجودہ مذاکرات اس وسیع تر تجارتی فریم ورک کا حصہ ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان محصولات کے تبادلے اور جوابی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ کو کم کرنے کے لیے طے کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد ٹیرف کا بوجھ ہلکا کرنا اور ٹیکنالوجی کی پابندیوں کو ختم کرنا تھا۔ الجزیرہ کی فراہم کردہ مزید تفصیلات کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے مئی میں ایک معاہدے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت بیجنگ نے 2026 سے سالانہ 17 ارب ڈالر کی امریکی زرعی مصنوعات خریدنی ہیں، جب کہ موجودہ سال کے لیے بھی اہداف طے کیے گئے ہیں جو گزشتہ اکتوبر میں بیجنگ کی جانب سے سویا بین کی خریداری کے وعدوں کا تسلسل ہیں۔
اس کی اہمیت
پاکستان جیسے ممالک کے لیے، امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات میں ہونے والی یہ تبدیلیاں بڑی معاشی اہمیت رکھتی ہیں۔ جب دو بڑی عالمی معیشتیں بڑے پیمانے پر ٹیرف میں ردوبدل اور زرعی سپلائی چینز کے معاملے پر مذاکرات کرتی ہیں، تو اس کے اثرات عالمی منڈیوں، جہاز رانی کے راستوں اور بین الاقوامی مالیاتی استحکام پر پڑتے ہیں، جو بالآخر علاقائی تجارت کی لاگت اور درآمدی اخراجات کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

Scott Bessent
Jamieson Greer