کرکٹ کی تاریخ کے ایک سیاہ باب پر سے پردہ ہٹ گیا ہے جب سابق آسٹریلوی اوپنر عثمان خواجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف میدان میں گیند کی حالت خراب کرنے کی سازش سے کوئی بھی لاعلم نہیں تھا۔ بی بی سی اسپورٹس اور سڈنی مارننگ ہیرالڈ کی رپورٹس کے مطابق عثمان خواجہ نے اپنی نئی خود نوشت کتاب "صبر" میں لکھا ہے کہ ریت کا کاغذ استعمال کرنے کا یہ معاملہ چند کھلاڑیوں تک محدود نہیں تھا بلکہ پوری ٹیم اس بارے میں جانتی تھی۔
یہ مشہور واقعہ 2018ء میں کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے دوران پیش آیا تھا جب کیمرون بنکرافت کو کیمروں نے گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا۔ اس ہنگامے کے بعد اس وقت کے کپتان اسٹیو اسمتھ، نائب کپتان ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بنکرافت پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق عثمان خواجہ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر گفتگو پورٹ الزبتھ میں کھیلے جانے والے پچھلے میچ کے دوران ہی شروع ہو گئی تھی اور بلے بازوں، بولرز سمیت تمام معاون عملہ اس سے آگاہ تھا۔
پس منظر
بی بی سی اسپورٹس نے بتایا ہے کہ یہ تازہ انکشاف ان چاروں آسٹریلوی بولرز کے پرانے بیان کو چیلنج کرتا ہے جو اس میچ میں کھیل رہے تھے جن میں پیٹ کمنز، مچل اسٹارک، جوش ہیزل ووڈ اور ناتھن لیون شامل ہیں۔ سن 2021ء میں ان چاروں نے ایک مشترکہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں قطعی علم نہیں تھا کہ میدان میں کوئی غیر قانونی چیز لائی گئی تھی۔ عثمان خواجہ نے کتاب میں لکھا ہے کہ پورٹ الزبتھ کے ڈریسنگ روم میں ہونے والی کھلی گفتگو کے دوران کپتان اسٹیو اسمتھ نے مبینہ طور پر ہاتھ اٹھا کر کہا تھا کہ وہ اس معاملے کی مزید تفصیلات نہیں جاننا چاہتے۔
اس تمام ہنگامے اور تحقیقات کے باوجود، جس میں سزاؤں کا نشانہ صرف اسٹیو اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بنکرافت بنے، عثمان خواجہ اس بات پر دنگ رہ گئے کہ کرکٹ آسٹریلیا کی باضابطہ تحقیقات کے دوران ان سے کبھی کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق اس سے قبل کیمرون بنکرافت نے بھی 2021ء میں دیئے گئے ایک انٹرویو میں اشارہ کیا تھا کہ بولرز کے علم میں یہ بات ہونا خود واضح تھا، جس پر بولرز نے ایک بار پھر اپنے بے گناہ ہونے کا اعادہ کیا تھا۔
یہ معاملہ کیوں اہم ہے
پاکستان سمیت دنیا بھر کے کرکٹ کے شائقین کے لیے کھیل میں شفافیت، جوابدہی اور مسابقتی ایمانداری ہمیشہ سے بنیادی اہمیت کی حامل رہی ہیں۔ جب کسی قومی ٹیم کے اہم ارکان پر اجتماعی طور پر اصول شکنی سے آگاہی کے الزامات سامنے آتے ہیں، تو اس سے پیشہ ورانہ کھیلوں کے انتظامی ڈھانچے، ٹیم کے اندرونی کلچر اور سرکاری تحقیقات کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھتے ہیں جو کہ اب بھی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔

Usman Khawaja
Steve Smith