کرکٹ کی دنیا کے ایک اور تاریک باب کے پرانے سائے ایک بار پھر گہرے ہونے لگے ہیں، جب ایک سینئر آسٹریلوی کھلاڑی نے اس پورے معاملے پر اپنی خاموشی توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عثمان خواجہ اپنی آنے والی سوانح حیات میں 2018 کے بدنام زمانہ سینڈ پیپر سکینڈل کے حوالے سے اپنا نکتہ نظر پیش کرنے جا رہے ہیں، جس سے اس واقعے کے کئی نادیدہ پہلو سامنے آنے کی توقع ہے۔
ای ایس پی این کرک انفو اور نائن پیپرز کی رپورٹس کے مطابق، عثمان خواجہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ کیپ ٹاؤن کے اس واقعے کے دوران کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی تحقیقات میں ان سے باقاعدہ کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی تھی۔ دوسری جانب، رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موجودہ ٹیسٹ کپتان پیٹ کمنز اس کتاب میں آنے والے ممکنہ انکشافات سے زیادہ پریشان دکھائی نہیں دیتے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل کیمرون بانفراف نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ بات خود واضح تھی کہ بال کی حالت بدلنے کے اس طریقے سے بولنگ اٹیک مکمل طور پر آگاہ تھا۔
پس منظر
اس تنازع کی جڑیں مارچ 2018 میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کے درمیان کیپ ٹاؤن میں کھیلے گئے اس ٹیسٹ میچ میں پیوست ہیں، جہاں گیند کی حالت غیر قانونی طریقوں سے تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس واقعے کے نتیجے میں آسٹریلوی کرکٹ میں سخت سزائیں دی گئی تھیں اور انتظامی سطح پر بڑے پیمانے پر نظرثانی کی گئی تھی، تاہم کھلاڑیوں اور بورڈ کی اندرونی معلومات کے دائرہ کار پر سوالات آج بھی برقرار ہیں۔
اہمیت
کھیل کے شائقین کے لیے شفافیت اور بورڈ کی جوابدہی آج بھی کھیلوں کی انتظامیہ میں انتہائی اہمیت کی حامل بحث ہے۔ عثمان خواجہ کی یہ آنے والی کتاب ایک بار پھر ماضی کے انتظامی فیصلوں اور اندرونی تحقیقات کے عمل کو عوام کی کڑی نظروں کے سامنے لے آئی ہے۔

Usman Khawaja
Pat Cummins