جب یو ایس ایس ابراہم لنکن کا بحری جہاز سان ڈیاگو کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا تو اپنوں کے منتظر خاندانوں کے جذبے دیدنی تھے اور خوشی کے آنسو چھلک پڑے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ طویل ترین سفر 300 روز سے زائد عرصے پر محیط تھا جو سمندر میں کسی بھی بڑے مشن کا ایک ریکارڈ ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اس طویل تعیناتی کے دوران جہاز پر سامان رسد کی کمی، سہولیات کی خرابی اور عملے میں خودکشی کی کوششوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یو ایس ایس ابراہم لنکن کی اس طویل تعیناتی کا مقصد ایران کے خلاف امریکی قیادت میں جاری جنگ کی حمایت کرنا تھا۔ اس مشن کو 300 دن سے بھی زیادہ آگے بڑھایا گیا، جس کی وجہ سے یہ ایک ریکارڈ ساز عسکری مہم بن گئی۔
اہمیت اور اثرات
پاکستانی قارئین کے لیے یہ دیکھنا اہم ہے کہ اس نوعیت کی طویل عسکری مہمات اور سمندری تعیناتیاں کس طرح فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے شدید ذہنی اور جسمانی مشکلات کا باعث بنتی ہیں، اور طویل بین الاقوامی تنازعات کے دوران انسانوں کو کتنی بھاری لاگت چکانی پڑتی ہے۔
