سرخ دھوئیں کے بادل، فضا میں اڑتے فلیئرز اور ہنگامہ آرائی کے درمیان، فٹبال کی تاریخ کے دو روایتی حریف ایک ایسے پرسکون لمحے میں شریک ہوئے جس نے چیمپئنز لیگ کے اس میچ کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، فوٹوگرافر اسٹیفانو ریلینڈینی نے 21 سال قبل انٹر میلان کے مارکو میٹیرازی اور اے سی میلان کے روئی کوسٹا کی یہ ناقابل فراموش تصویر کیمرے میں قید کی، جو افراتفری کے عالم میں سکون کا ایک انوکھا منظر پیش کر رہی تھی۔
بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، یہ تصویر 2005 کے چیمپئنز لیگ کوارٹر فائنل کے دوسرے مرحلے کے دوران سان سیرو اسٹیڈیم میں سامنے آئی۔ فوٹوگرافر اسٹیفانو ریلینڈینی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب ہر شخص میدان میں موجود دھوئیں اور فلیئرز پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا، تو انہوں نے دونوں کھلاڑیوں کے درمیان موجود اس تضاد کو محسوس کیا۔ میٹیرازی، جن کے بارے میں ریلینڈینی کا کہنا ہے کہ وہ روایتی طور پر نرم مزاج کھلاڑی نہیں مانے جاتے، وہ پرتگال کے انتہائی شائستہ اور باصلاحیت مڈفیلڈر روئی کوسٹا کے کندھے پر کہنی ٹکائے کھڑے تھے۔ ریلینڈینی کا کہنا تھا کہ وہ اس لمحے کی صرف ایک ہی فریم کیپچر کر پائے۔
پس منظر
بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، یہ مشہور تصویر 2005 کے چیمپئنز لیگ کوارٹر فائنل کے ڈرامائی انجام کی عکاسی کرتی ہے، جسے بعد میں معطل کرنا پڑا تھا۔ میچ کے 73 ویں منٹ میں جب میلان مجموعی اسکور پر 3-0 کی برتری حاصل کیے ہوئے تھا، تو ریفری نے میچ روک دیا کیونکہ انٹر کے کچھ حامیوں نے سان سیرو کے گراؤنڈ پر چیزیں اور فلیئرز پھینکنا شروع کر دیے تھے، اور ایک فلیئر میلان کے گول کیپر دیدا کو جا لگا۔ بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق، یہ ہنگامہ اسٹیبن کامبیاسو کا گول منسوخ ہونے کے بعد شروع ہوا، جس کے بعد شائقین نے تقریباً 15 سے 20 منٹ تک میدان میں چیزیں پھینکیں اور صورتحال کسی جنگ کے میدان جیسی ہو گئی۔ بعد میں یہ میچ میلان کے حق میں دے دیا گیا تھا۔
اس کی اہمیت
کھیلوں کے شائقین اور دنیا بھر میں شدید مقامی حریفوں کے مقابلوں پر نظر رکھنے والوں کے لیے، یہ لازوال تصویر یہ بتاتی ہے کہ کس طرح سب سے زیادہ جذباتی اور کشیدہ ماحول سے بھی کھیل کی روح اور انسانی سکون جنم لے سکتا ہے۔ یہ تصویر فٹبال کے ٹاپ مقابلوں کے گرد موجود گہرے جذبات، تاریخی دشمنیوں اور شائقین کے جوش و خروش کی ایک طاقتور یاد دہانی بنی ہوئی ہے۔

