خطے میں منڈلاتے ہوئے جنگ کے بادلوں کے درمیان عراقی حکومت نے اپنی سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی محاذ پر سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر تفصیلی گفتگو کی، جس کا مقصد عراق کو امریکہ اور ایران کی کشمکش کا میدان بننے سے بچانا ہے۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر عراقی وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی خودمختاری کا احترام ناگزیر ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ہتھیاروں کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
اہم حقائق
- الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جمعرات کو ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں خطے کی سکیورٹی پر بات کی گئی۔
- وزیراعظم علی الزیدی نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ عراقی سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
- عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے دجلہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کا خطرہ موجود ہے اور انہوں نے ملکی مسلح گروہوں کو انتقامی کارروائیوں سے باز رہنے کی تنقید کی۔
- فواد حسین کا کہنا تھا کہ عراق کو وسیع تر جنگ میں گھسیٹنا ایک صریح تباہی ہوگی کیونکہ نہ تو عوام اور نہ ہی عراقی افواج اس وقت جنگ کی متحمل ہو سکتی ہیں۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فروری میں امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے عراق کو امریکی اور ایرانی مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ مئی میں منصب سنبھالنے کے بعد سے وزیراعظم علی الزیدی کی اولین ترجیح ملک کے اندر موجود ان مسلح دھڑوں کو قابو کرنا ہے جو ماضی میں تہران کی حمایت میں حملے کرتے رہے ہیں۔
وزیر خارجہ فواد حسین نے دجلہ ٹی وی کو بتایا کہ ملک عملی طور پر امریکہ، ایران اور اندرونی مسلح گروہوں کی جنگ کا اکھاڑا بن چکا ہے۔ اگرچہ بغداد کے واشنگتن اور تہران دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، تاہم اس بحران کے نتیجے میں عراق کو تیل کی برآمدات میں 60 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ زیادہ تر عراقی تیل آبراہ ہرمز کے راستے جاتا ہے جسے جنگ کے آغاز پر ایران نے بڑی حد تک بند کر دیا تھا، تاہم عراق ان چند ممالک میں شامل ہے جنہیں اس راستے سے نقل و حرکت کی خصوصی چھوٹ حاصل ہے۔
اہمیت
پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے مبصرین کے لیے عراقی بحران اس بات کا عکاس ہے کہ بڑی عالمی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان پھنسے ہوئے ممالک کو کتنے شدید معاشی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ توانائی کی برآمدات میں اربوں ڈالر کا نقصان اور تجارتی راستوں کی بندش اس بات کا ثبوت ہے کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات کس تیزی سے قومی معیشتوں کو تباہ اور علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

Ali al-Zaidi
ڈونلڈ ٹرمپ