بند کمرے کی عدالت اور عوامی نظروں سے دور، دو دہائیوں تک سیاست سے وابستہ رہنے والے اور ماضی کے اسکول ٹیچر کو طویل قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، 69 سالہ او کام سان کے خلاف یہ فیصلہ مکاؤ میں قومی سلامتی کے تحت ہونے والی پہلی قانونی کارروائی ہے، جس میں انہیں ریاست کے سیاسی اقتدار کے خلاف سازش اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیا گیا۔

بی بی سی نے بتایا کہ استغاثہ کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ سابق قانون ساز نے طویل عرصے تک بیرونی عناصر کے ساتھ مل کر ایسی معلومات جمع اور شیئر کیں جو سیاسی طور پر حساس تھیں۔ جولائی 2025 میں گرفتار ہونے والے او کام سان پر ریاست مخالف سرگرمیوں، غیر ملکی رابطوں کے ذریعے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے اور رازداری کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ستمبر میں مکمل ہونے والی تین روزہ سماعت کے بعد جج نے انہیں کل سات میں سے چار الزامات میں مجرم قرار دیا۔ بی بی سی کے مطابق، یہ کارروائی قومی سلامتی کے مفادات کے تحت جج کے حکم پر بند کمرے میں کی گئی اور تفصیلات کو عام نہیں کیا گیا۔ ان کے اہلِ خانہ نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں آزاد وکیل کی سہولت نہیں دی گئی بلکہ عدالت کی طرف سے مقرر کردہ وکیل فراہم کیا گیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، سزا پانے والے سیاستدان کی اہلیہ ورجینیا چیانگ نے ایک کھلے خط میں اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے محض انتقامی کارروائی قرار دیا ہے تاکہ ان کے شوہر کو نشانہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جیل میں خط لکھنے اور ملاقات کی اجازت ملنے کی معمولی سی امید رکھتی ہیں کیونکہ اس سے زیادہ کی توقع کرنے پر مایوسی کا خدشہ ہے۔

پس منظر

بی بی سی کے مطابق، مکاؤ 1999 میں چار صدیوں سے زائد عرصے کی پرتگالی حکمرانی کے بعد چین کے انتظام میں واپس آیا تھا۔ خطے میں 2009 میں پہلا قومی سلامتی کا قانون بنایا گیا تھا جس کا مقصد غداری اور ریاست مخالف اقدامات کو روکنا تھا۔ بعد ازاں 2023 کی ترامیم کے ذریعے اس قانون کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا گیا جبکہ رواں سال منظور ہونے والی ترامیم میں بند کمرے میں ٹرائل کی اجازت دی گئی۔

سیاسی زندگی سے وابستہ رہنے سے پہلے او کام سان پرائمری اسکول کے استاد رہے اور ستمبر 2001 میں قانون ساز اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے۔ وہ بیس سال تک اس اسمبلی میں ان چند جمہوریت پسند شخصیات میں شامل رہے جو بیجنگ کے حامی ارکان کے مقابلے میں موجود تھیں۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ماضی میں بیجنگ کے واقعے کی یاد میں سالانہ تقریبات کے انعقاد میں بھی مدد کی تھی، جن پر بعد میں پابندی عائد کر دی گئی۔ بی بی سی نے یہ بھی بتایا کہ او کام سان کو یہ سزا ہانگ کانگ میں ایک معروف سیاسی کارکن کو 10 سال قید کی سزا سنائے جانے کے ایک دن بعد دی گئی ہے۔

اہم نکات

پاکستانی قارئین اور مبصرین کے لیے ریاست کے قوانین، سیاسی اختلاف اور عدالتی کارروائیوں کے یہ معاملات خطے کی پیچیدہ صورتحال اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگرچہ مختلف علاقوں میں قوانین کا ڈھانچہ الگ ہوتا ہے، لیکن عدائلی کارروائیوں میں شفافیت، قانونی نمائندگی اور سیاسی اختلاف کی محدود ہوتی ہوئی گنجائش جیسے امور ہمیشہ عالمی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں۔