گھر کا راشن خریدنا ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید کٹھن ہوتا جا رہا ہے، اور عام آدمی کی جیب پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال میں تجارتی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کے قومی ذخائر سے پردہ ہٹایا جائے اور مارکیٹ میں غلے کی فراہمی کا نظام مکمل طور پر شفاف بنایا جائے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، ممتاز کاروباری رہنما میاں زاہد حسین نے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے دستیاب اجناس اور مارکیٹ میں ان کی ترسیل کا ڈیٹا ڈیجیٹل طور پر عام کرنے پر زور دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق معاشی اشاریوں کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:
- بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم نے حکام پر زور دیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں اور ضلع وار دستیابی کی کڑی نگرانی کی جائے، تاکہ قلت کا شکار علاقوں میں فوری طور پر غلے کی رسد کو یقینی بنایا جا سکے، جیسا کہ بزنس ریکارڈر نے بتایا۔
- ادارہ شماریات پاکستان کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اکتوبر 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کم ہو کر 9.6 فیصد پر آ گئی، جبکہ ستمبر میں یہ شرح 10.3 فیصد تھی، بزنس ریکارڈر کے مطابق۔
- رواں مالی سال کے پہلے چار مہینوں کے دوران اوسط مہنگائی 10.05 فیصد تک پہنچ گئی، جو کہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 4.79 فیصد تھی، اسی ادارے کی رپورٹ بتاتی ہے۔
- اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا تھا، تاہم کاروباری نمائندوں نے نشاندہی کی کہ اس اقدام سے تجارتی قرضوں کے اخراجات بھی بڑھ گئے، بزنس ریکارڈر نے خبر دی۔
پس منظر
ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق اکتوبر میں صارفین کے لیے قیمتوں میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 1.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو کہ اکتوبر 2025 میں ریکارڈ کیے گئے ماہانہ اضافے سے ملتا جلتا ہے۔ آٹے، پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے کم آمدنی والے گھرانوں کی مالی سعت کو محدود کر رکھا ہے۔
اہمیت کیوں رکھتی ہے
پاکستان کے عام شہریوں کے لیے ان معاشی تبدیلیوں کا مطلب بازار میں زیادہ مشکل فیصلے کرنا ہے۔ محدود آمدنی والے خاندانوں کے لیے مہنگائی قوت خرید کو گھٹا رہی ہے، جس کی وجہ سے بنیادی اشیاء خریدنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، کارپوریٹ قرضوں کے زیادہ اخراجات اور توانائی کے بل صنعتی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں، جو گھریلو مالی دباؤ کو مجموعی کاروباری چیلنجوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔

چودھری شجاعت حسین