ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی ٹیکسٹائل برآمدات ایک بار پھر شدید مشکلات کی زد میں ہیں، جہاں کارخانے چلانا اور بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت برقرار رکھنا دن بہ دن کٹھن ہوتا جا رہا ہے۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن (APTPMA) کے کراچی ریجن کے وائس چیئرمین اور ریجنل انچارج محمد رضوان لاکھانی نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو گیس اور پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں برآمدی صنعت کو پائیدار بنیادوں پر سستی بجلی فراہم کی جائے تاکہ ملکی مصنوعات عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکیں۔
پس منظر
بزنس ریکارڈر کے مطابق، ٹیکسٹائل پروسیسنگ کا شعبہ اس وقت پانی اور گیس کی مسلسل قلت کے علاوہ آسمان کو چھوتے بجلی کے بلوں جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ان غیر یقینی حالات کی وجہ سے لاگتِ پیداوار میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث پاکستانی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں میں دیگر ممالک کے مقابلے میں مہنگی پڑ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتیں بڑھنے سے رنگوں اور کیمیکلز کے دام بھی بڑھ گئے ہیں، جس نے صنعت کاروں کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
اہمیت
بزنس ریکارڈر کے توسط سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ ملکی برآمدات، روزگار کی فراہمی اور صنعتی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی وجہ سے کارخانوں کے لیے اپنے امور جاری رکھنا اور غیر ملکی خریداروں سے کیے گئے وعدے پورے کرنا انتہائی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔

