اہم نکات
- بی بی سی اسپورٹس کے مطابق ناٹنگھم فارسٹ نے مانچسٹر سٹی کو 3-1 سے ہرا کر اس سیزن میں ہوم گراؤنڈ پر پہلی پریمیئر لیگ فتح اپنے نام کی۔
- فارسٹ کی طرف سے لیام ڈیلاپ نے دو گول کیے جبکہ جیر کُنیا نے ٹیم کا پہلا گول اسکور کیا۔
- منیجر اولیور گلاسنر نے گول کے بعد سائیڈ لائن پر پرجوش انداز میں جشن منایا اور بعد میں بی بی سی میچ آف دی ڈے کو بتایا کہ یہ ان کی بہترین دوڑ کے اعداد و شمار میں سے ایک تھا۔
بی بی سی اسپورٹس کے مطابق اولیور گلاسنر کی حکمت عملی آخر کار رنگ لے آئی جب ناٹنگھم فارسٹ نے مانچسٹر سٹی کو 3-1 سے شکست دے کر اس سیزن میں اپنی پہلی ہوم لیگ فتح کا مزہ چکھا۔ سیزن کے مشکل آغاز کے بعد جب لیام ڈیلاپ نے دو بار گیند کو جال میں ڈالا اور جیر کُنیا نے کھاتہ کھولا تو کوچ کے جذبے میدان کے کنارے بے قابو ہو گئے۔
اہم تفصیلات
بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، اس میچ سے قبل فارسٹ نے اس سیزن میں پریمیئر لیگ کے دوران 152 بار گول کی کوشش کی تھی جو کہ لیگ میں دوسری سب سے زیادہ تعداد ہے، لیکن اس کے باوجود وہ محض 6 گول ہی کر پائے تھے۔ ان کی اب تک کی خراب کارکردگی میں 4 فیصد کی کم ترین گول کنورژن ریٹ اور منفی 8.3 کا متوقع گولز کا خسارہ شامل تھا۔ تاہم، سٹی کے خلاف میچ میں انہوں نے 3 گول اسکور کر کے اپنے پچھلے 6 ہوم لیگ میچوں کے مجموعی گولز کا ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیا۔
منیجر اولیور گلاسنر نے بی بی سی میچ آف دی ڈے سے بات کرتے ہوئے سائیڈ لائن پر اپنی دوڑ کا ہلکے پھلکے انداز میں ذکر کیا اور کہا کہ "One of my best running stats, I guess." انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ان کی ٹیم نے اس سے پہلے گیند پر بہتر کنٹرول کے ساتھ میچ کھیلے تھے، لیکن مانچسٹر سٹی کے خلاف دفاعی نظم و ضبط اور حکمت عملی پر عمل درآمد نے اسے ان کی بہترین مجموعی کارکردگی بنا دیا۔
لیورپول کے سابق مڈفیلڈر ڈینی مرفی نے بی بی سی اسپورٹس کو بتایا کہ یہ نتیجہ فارسٹ کے لیے سیزن کا ایک بڑا موڑ ثابت ہوا ہے، اور یہ بھی نوٹ کیا کہ گلاسنر کو اپنے دورِ حکومت کے آغاز میں کارکردگی کے مقابلے میں پوائنٹس کے معاملے میں بدقسمتی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پس منظر اور اثرات
اس مقابلے سے پہلے، فارسٹ کی بنیادی کارکردگی کے اعداد و شمار اور زمینی حقائق کے درمیان بڑا فرق موجود تھا۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، ٹیم کو لیگ میں پوائنٹس اور متوقع پوائنٹس کے درمیان سب سے بڑے منفی فرق کا سامنا تھا، جبکہ ان کی پوزیشن میں بھی بڑا تضاد تھا جہاں متوقع اعداد و شمار انہیں تیسرے نمبر پر ظاہر کرتے تھے جبکہ وہ 19ویں پوزیشن پر موجود تھے۔ گلاسنر نے پہلے اس تاثر کو رد کیا تھا کہ ان کا اسکواڈ صرف دلکش اندازِ کھیل کے سہارے زندہ رہ سکتا ہے، اور اپنے پچھلے بیانات میں 1960ء کی دہائی کے ووڈ اسٹاک کا حوالہ بھی دیا تھا۔
خلاصہ اور آگے کیا ہوگا
اب جب کہ انٹرنیشنل بریک شروع ہو چکی ہے، اولیور گلاسنر نے کہا کہ وہ اس وقفے کا استعمال میچ کے دوران اپنی تھکن مٹانے کے لیے کریں گے۔ یہ فتح فارسٹ کے لیے ایک اہم ترین لمحہ ہے جو انہیں اپنی مہم کے پہلے ہوم میچ کی کامیابی پر مزید عمارت کھڑی کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

