وفاقی دارالحکومت کے باسیوں کے لیے نچلی سطح پر اپنے نمائندے چننے کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ انتخاباتی ادارے نے اس معاملے پر عملی قدم اٹھا لیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد کی حد تک بلدیاتی انتخابات 2015 کے قانون کے تحت کرانے کا حکم صادر کر دیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے بلدیاتی انتخابات میں طویل تاخیر کے مقدمے کی سماعت کے دوران یہ اہم فیصلہ سنایا۔ جیو نیوز کے مطابق بنچ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر انتخابات کا نیا شیڈول تیار کر کے جاری کریں۔ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ کے سیکرٹری اور چیف کمشنر اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کیے تھے۔

پس منظر

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد کیپٹل ٹریٹری میں آخری منتخب بلدیاتی نظام کی مدت فروری 2021 میں ختم ہو گئی تھی، لیکن قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے نئے انتخابات نہیں ہو سکے تھے۔ الیکشن کمیشن نے اس سے قبل 20 جولائی 2026 کو اسلام آباد بلدیاتی قوانین کے حوالے سے اپنی تجاویز وزارت داخلہ کو ارسال کی تھیں تاکہ کمیشن کی سفارشات کے مطابق ضابطے بنائے جا سکیں۔ جیو نیوز کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 219 (4) کے تحت کمیشن پر لازم ہے کہ وہ مدت پوری ہونے کے 120 دن کے اندر نئے بلدیاتی انتخابات منعقد کروائے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے؟

وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کے لیے بلدیاتی انتخابات بنیادی مسائل کے حل اور عوامی سطح پر نمائندگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ الیکشن کمیشن کا یہ تازہ حکم کئی سال کی قانونی اور انتظامی تاخیر کے بعد ایک واضح سمت متعین کرتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

جیو نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن نے اپنے حکام کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا نیا اور تازہ شیڈول جلد از جلد جاری کریں۔