اہم نکات
- الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اپوزیشن رہنما گیڈی آیزہن کوٹ کو نئی حکومت تشکیل دینے کا باضابطہ ٹاسک سونپ دیا ہے۔
- گیڈی آیزہن کوٹ نے کہا ہے کہ وہ اپنے اتحاد میں وزیر اعظم بینیامین نیتن یاہو اور انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزالل سموٹرچ کو بھی شامل کرنے کے لیے تیار ہیں۔
- الجزیرہ کے مطابق، آیزہن کوٹ کو پارلیمنٹ میں اکثریت ثابت کرنے یا اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے 6 ہفتوں کا وقت ملا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، اسرائیلی اپوزیشن کے سرکردہ رہنما گیڈی آیزہن کوٹ نے ملک کی اگلی حکومت بنانے کا منصب سنبھالتے ہوئے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو بھی ممکنہ اتحاد کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ یروشلم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے قومی اتحاد پر زور دیا اور تجویز پیش کی کہ لکود اور ریلیجیس صائننس پارٹی کے ارکان ان کی قیادت میں بننے والی انتظامیہ کی حمایت کر سکتے ہیں۔
اہم تفصیلات
الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ صدر اسحاق ہرزوگ نے 8 نومبر 2026 کو باضابطہ طور پر آیزہن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت دی۔ یروشلم میں منعقدہ تقریب کے دوران آیزہن کوٹ کا کہنا تھا کہ ان کی مخلوط حکومت اسرائیلی معاشرے کے تمام طبقوں کی نمائندگی کرے گی، البتہ انہوں نے عرب جماعتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے اتحاد کے امکان کو مسترد کر دیا۔ 27 اکتوبر کے انتخابات میں آیزہن کوٹ کے 4 جماعتی اتحاد نے 48 نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ نیتن یاہو کے بلاک کو 53 نشستیں ملیں، جس کی وجہ سے دونوں فریق پارلیمنٹ میں اکثریت کے لیے درکار 61 نشستوں کا ہندسہ چھونے سے محروم رہے۔ ادھر عرب جماعتوں نے ریکارڈ 19 نشستیں اپنے نام کیں۔ الجزیرہ نے یہ بھی بتایا کہ صدر ہرزوگ نے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسطی مدتی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال سے خبردار کیا تھا، جن میں ایسے سیاسی رہنماؤں کا عروج دیکھا گیا جو اسرائیل اور امریکی فوجی امداد پر تنقید کرتے ہیں۔
پس منظر اور اثرات
گیڈی آیزہن کوٹ 2015 سے 2019 تک اسرائیلی فوج کے سربراہ رہ چکے ہیں اور اکتوبر 2023 میں غزہ میں شروع ہونے والے تنازع کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں مبصر کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، فوجی پس منظر کے باوجود عرب جماعتوں نے نیتن یاہو کو ہٹانے کے لیے آیزہن کوٹ کی حمایت کی۔ الجزیرہ کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نگران وزیر اعظم کے طور پر کام کرنے والے نیتن یاہو کے پاس ابھی اتنا وقت موجود ہے کہ وہ آیزہن کوٹ کی حکومت سازی کی کوششوں اور اعتماد کے ووٹ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر سکیں۔
خلاصہ اور آگے کیا ہوگا
آیزہن کوٹ کے پاس اتحاد کی جوڑ توڑ مکمل کرنے اور پارلیمنٹ سے مطلوبہ حمایت حاصل کرنے کے لیے 6 ہفتوں کا وقت ہے۔ الجزیرہ نے نوٹ کیا کہ اگر آیزہن کوٹ حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو صدر کی جانب سے مینڈیٹ حاصل کرنے کے لیے نیتن یاہو قدرتاً دوسری پسند ہوں گے۔

Gadi Eisenkot
بنیامین نیتنیاہو
Isaac Herzog