آئندہ کی فراہمی کے لیے پیشگی ادا کیے جانے والے ہر ایک روپے کا اب ایک لازمی ڈیجیٹل ریکارڈ رکھا جائے گا، جو وفاقی ٹیکس ہدایات کے تحت تیار کیا گیا ہے۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں ترمیم کے لیے ایس آر او 2063(آئی)/2026 جاری کر دیا ہے، جس کے تحت ایڈوانس رسید انوائسز کا اجرا لازم قرار دیا گیا ہے۔ نئے طے شدہ طریقہ کار کے تحت سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ افراد اور وہ ادارے جو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 23 کے دائرہ کار میں آتے ہیں، ان کے لیے لازم ہے کہ وہ کسی بھی پیشگی رقم کی وصولی کے عین وقت پر، خواہ وہ رقم مکمل ہو، آدھی ہو یا اقساط میں دی گئی ہو، ایڈوانس رسید انوائس لازمی طور پر جاری کریں۔

پس منظر

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق تازہ ترین قوانین میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ ان پیشگی رسید انوائسز میں سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 23 میں درج تمام ضروری تفصیلات کا ہونا لازمی ہے۔ ٹیکس دہندگان کے لیے ضروری ہے کہ وہ متعلقہ ٹیکس کی مدت کے گوشواروں میں، جس کے دوران ایڈوانس وصول کیا گیا ہو، متعلقہ آؤٹ پٹ ٹیکس کا باضابطہ اعلان کریں اور اس کا حساب کتاب رکھیں۔ اس کے علاوہ ضابطہ کار کے تحت یہ دستاویزات ایکٹ کے سیکشن 7 اور 8 کے تحت باضابطہ ٹیکس انوائسز کے طور پر کام کریں گی۔

ایف بی آر کی ہدایات کے مطابق اگر ایک ہی سپلائی کے عوض متعدد ایڈوانس ادائگییاں وصول کی جاتی ہیں، تو ہر ایک الگ لین دین کے لیے ایک الگ انوائس بنانا ہوگی۔ آڈٹ کا سلسلہ بغیر کسی خلل کے جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر اگلی ایڈوانس رسید انوائس کو اسی سپلائی سے جُڑی پچھلی دستاویزات کے ساتھ الیکٹرانک طریقے سے منسلک کیا جائے۔