کراچی کے علاقے گلشن حدید کی ایک نجی سوسائٹی کے مکان سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی لاشیں ملنے کے واقعے نے پورے شہر کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 40 سالہ شہزیب، ان کی 40 سالہ اہلیہ صبا، ان کی چار اور پانچ سال کی دو بیٹیاں عاریہ اور ایزل اور شہزیب کی 18 سالہ بہن شمعونہ شامل ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق تفتیشی حکام اس دلخراش واقعے کو خودکشی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موقع سے ایک تحریر بھی ملی ہے جس میں شہزیب کی طرف سے شدید معاشی مشکلات اور بیروزگاری کا ذکر کیا گیا ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق شہزیب اس سے قبل اپنے مرحوم والد کی جائیداد فروخت کر کے گھر کا خرچ چلا رہے تھے۔

پولیس حکام کا نوٹس

جیو نیوز کے مطابق سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس جاوید عالم اوڈھو نے اس دلخراش واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی سے فوری طور پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ صوبائی پولیس سربراہ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تفتیش کی جائے، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جائیں، فارنزک جانچ پڑتال مکمل کی جائے اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ المناک واقعہ چند ہفتے قبل کراچی کے علاقے احسن آباد میں پیش آنے والے ایک ایسے ہی واقعے کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں سائٹ کے علاقے میں ایک فلیٹ سے ایک شخص، اس کی بیوی اور تین بچوں کی لاشیں اسی طرح کے شبہات کے تحت ملی تھیں جن میں بیروزگاری اور مالی بحران کو وجہ بتایا گیا تھا۔

اس واقعے کے مضمرات

اس نوعیت کے واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ بڑھتے ہوئے معاشی چیلنجز کے درمیان عام گھرانے کس قدر شدید سماجی و معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ شہری مراکز میں اس طرح کے خاندانی المیے بار بار سامنے آنے سے یہ ضرورت شدت سے اجاگر ہوتی ہے کہ بیروزگاری اور معاشی ابتری سے دوچار افراد کے لیے ذہنی صحت کی سہولتیں اور مالی مشاورت کے وسائل آسانی سے دستیاب ہونے چاہئیں تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے جو روزمرہ کے مسائل کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں۔