جب معاشرہ خواتین کو رہنماؤں کے بجائے صرف مظلوم کے طور پر دیکھے، تو ٹیلی ویژن اسکرین پر دکھائی جانے والی کہانیاں بھی اسی سوچ کو پختہ کرتی ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق، ادارے نے خواتین اور بچیوں کی عوامی سطح پر نمائندگی کا انداز بدلنے کے لیے یو این ویمن پاکستان کے ساتھ باضابطہ اشتراکِ کار کا فیصلہ کیا ہے اور یو این ویمن گلوبل میڈیا کمپیکٹ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ ایک رضاکارانہ اور دعوت نامے پر مبنی اتحاد ہے جس کا مقصد اداراتی پالیسیوں، رپورٹنگ اور عوامی روابط میں صنفی مساوات کو فروغ دینا ہے۔ جیو نیوز کے توسط سے جاری کردہ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تعاون کا مقصد خواتین اور بچیوں کے حقوق کو اجاگر کرنا، صنفی تعصبات کا مقابلہ کرنا اور خواتین کی قیادت کو سامنے لانا ہے۔

یو این ویمن پاکستان کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ اقبال خان نے جیو نیوز کو بتایا کہ میڈیا کوریج میں اکثر خواتین اور بچیوں کو معیشت دانوں، ججوں، قانون سازوں یا کاروباری شخصیات کے بجائے زیادہ تر مظلوم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو نقصان دہ روایات کو تقویت دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میڈیا کمپیکٹ میں شمولیت سے جیو نیوز نے اس تصویر کو بدلنے اور ایک ایسا میڈیا ماحول بنانے کا عزم کیا ہے جہاں خواتین اور بچیوں کو وقار، انصاف اور احترام کے ساتھ پیش کیا جائے۔

جیو نیوز کے مینیجنگ ڈائریکٹر مظہر عباس نے اپنے ادارے کی رپورٹ کے مطابق بیان دیا کہ خواتین اور بچیوں کی منصفانہ اور با معنی نمائندگی ذمہ دارانہ صحافت کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ ان کا نیٹ ورک صنفی حساسیت پر مبنی اداراتی طریقوں کو مضبوط کرے گا، کوریج میں شامل خواتین ماہرین اور فیصلہ سازوں کے دائرہ کار کو وسیع کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ خبروں میں سیاق و سباق اور وقار کا خیال رکھا جائے۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق یو این ویمن گلوبل میڈیا کمپیکٹ ان میڈیا اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے جو ذمہ دارانہ، جامع اداراتی فیصلوں اور صنفی حساس صحافت کے ذریعے صنفی مساوات اور خواتین کی بااختیاری کے لیے پرعزم ہیں۔ جیو نیوز نے بتایا کہ اس نے گزرتے وقت کے ساتھ اپنی رسائی کا استعمال کرتے ہوئے سماجی مسائل کو قومی مباحثے کا حصہ بنایا ہے، پسِ پردہ یا کم دکھائی جانے والی آوازوں کو بلند کیا ہے اور مختلف شعبوں میں خواتین کی خدمات کو اجاگر کیا ہے۔

اس اقدام کی اہمیت

جیو نیوز کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، میڈیا جس طرح خبروں کی کوریج کرتا ہے اور مہمانوں کو مدعو کرتا ہے، وہی معاشرے کا خواتین اور بچیوں کے بارے میں نظریہ بناتا ہے۔ صنفی حساس اداراتی طریقوں کو اپنانے اور خواتین ماہرین اور فیصلہ سازوں کو زیادہ سے زیادہ جگہ دینے کا مقصد عوامی شعور میں موجود امتیاز، نابرابری اور نقصان دہ دقیانوسی تصورات کا خاتمہ کرنا ہے۔