ایک ہزار گرام خالص سونا اب سرکاری توشہ خانہ کے نئے ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے، جس میں ملکی قیادت کو ملنے والے قیمتی تحائف کی تفصیلات پہلی بار اتنی کھل کر سامنے آئی ہیں۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اور جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جولائی سے ستمبر کے دوران تین درجن سے زائد تحائف توشہ خانہ میں جمع کرائے۔
سرکاری خزانے میں جمع کرائے جانے والے ان قیمتی تحائف میں ایک ایسا ڈبہ بھی شامل ہے جس میں ایک ہزار گرام سونا موجود تھا، جو وزیراعظم کو 31 اگست سے 2 ستمبر تک کے سرکاری دورے کے دوران کرغزستان میں ملا۔ جیو نیوز اور دی نیوز کی رپورٹس کے مطابق اس دورے کے دوران ملنے والے تحائف کی طویل فہرست میں روضہ رسول ﷺ کا ماڈل، ہاتھ سے بنے ہوئے ریشمی اور اونی قالین، شیلڈز، پلیٹیں، ٹائی، کف لنکس، خطاطی کے نمونے، پتھر کا بنا ہوا دستی سووینئر، پینٹنگز، دیوار پر سجانے والی اشیاء، بیلاروس کا شیشے کا شو پیس، لکڑی کی پلیٹ، بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کا ماڈل، سیرامک کا پھول دان، اسکارف، زیتون کا تیل، صابن، عود کا عطر، گاڑی کا ماڈل، کرغز طرز کا بڑا کمبل، اعزازی پھول دان، کتابیں، کرسٹل کی بڑی شیلڈ، کانسی کا پھول دان، رومال، تسبیح، پیالیوں سمیت چائے کے سیٹ اور ٹیبل گھڑی بھی شامل ہیں۔
اسی عرصے کے دوران ملک کی دیگر اعلیٰ ترین شخصیات نے بھی اپنے حصے کے تحائف سرکاری خزانے میں جمع کروائے۔ جیو نیوز کے مطابق صدر آصف علی زرداری کو 7 تحائف ملے جن میں دو قالین، تیر اندازی کا سامان، ایک موسیقی کا آلہ، فیصل مسجد کا فریم، شطرنج کا سیٹ اور ایک آرائشی چیز شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈپٹی وزیراعظم اسحق ڈار اور کابینہ کے اراکین بشمول وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر ریلوے حنیف عباسی سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی اس دوران ملنے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرائے۔
پس منظر
تحائف کے ان ریکارڈز کی عوامی سطح پر فراہمی کا یہ اقدام توشہ خانہ کے حوالے سے نافذ ہونے والے نئے ضوابط کے بعد سامنے آیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق وفاقی حکومت نے ستمبر میں توشہ خانہ کے نئے قواعد کی منظوری دی تھی۔ ان نئے قواعد کے تحت اب توشہ خانہ میں ملنے والے تمام موجودہ اور مستقبل کے تحائف کابینہ ڈویژن کے سیکرٹری کی سربراہی میں قائم ایک کمیٹی کی منظوری سے کھلی بولی کے ذریعے نیلام کیے جائیں گے۔ ان قواعد کے مطابق سرکاری عہدے دار یا کسی بھی سرکاری وفد میں شامل نجی فرد کے لیے لازم کیا گیا ہے کہ وہ تحفہ ملنے، غیر ملکی دورے سے واپسی یا تحفہ الگ سے موصول ہونے کی صورت میں مقررہ دنوں کے اندر اس کا اعلان کرے اور اسے توشہ خانہ میں جمع کرائے۔
اہمیت کیوں رکھتی ہے؟
توشہ خانہ کے ریکارڈ کی یہ تفصیلات اور سخت نئے قوانین سرکاری امور میں شفافیت کے حوالے سے اہم اثرات رکھتے ہیں۔ سرکاری دوروں کے دوران ملنے والے تحائف کے اندراج، ان کی قیمت کے تعین اور کھلی نیلامی کے طریقہ کار کو باضابطہ بنانے سے سرکاری اثاثوں کے سنبھالنے کے عمل میں یکساں اصول طے پا گئے ہیں۔

میاں محمد شہباز شریف
آصف علی زرداری
اسحاق ڈار