نیویارک کے علاقے ماربل ہل میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں وفاقی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک افسر نے کار کے اندر بیٹھے ایک شخص پر فائرنگ کر دی، جبکہ اس گاڑی میں ایک پانچ سالہ بچہ بھی سوار تھا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے بتایا کہ وفاقی ایجنٹوں نے اس گاڑی کو گھیرے میں لیا اور اس پر کئی گولیاں برسائیں۔ میئر نے اس واقعے کو انتہائی لرزہ خیز قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں اس قسم کی تمام کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے دوٹوک بیان میں کہا کہ وہ اپنے شہریوں کو اس طرح خوفزدہ ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔

دوسری جانب، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے موقف اختیار کیا کہ ان کے اہلکار برونکس میں شام کے وقت تقریباً 4 بجے ایک کارروائی میں مصروف تھے۔ ان کا ہدف ایک ایسا شخص تھا جو ڈومینیکن ریپبلک کا شہری تھا اور اس کا مجرمانہ پس منظر تھا۔ اسی دوران افسر نے گولی چلائی جس سے وہ شخص زخمی ہو گیا۔ نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق زخمی ہونے والا شخص ہوش میں تھا اور اسے علاج کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق اس واقعے سے پہلے ہی وفاقی امیگریشن اداروں پر تنقید کا طوفان برپا تھا۔ رواں سال جنوری میں منیاپولیس میں وفاقی ایجنٹوں کی فائرنگ سے دو امریکی شہری ہلاک ہو گئے تھے، جن میں 37 سالہ ماں رینی نکول گڈ اور انتہائی نگہداشت کے شعبے سے وابستہ نرس ایلکس پریٹی شامل تھے۔ ان ہلاکتوں کے بعد مقامی حکام کو تحقیقات سے دور رکھا گیا اور سول رائٹس کی تحقیقات کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے منیاپولیس میں سیکڑوں اضافی ایجنٹ تعینات کر دیے گئے تھے، جبکہ احتجاج کی لہر امریکا کے سینکڑوں شہروں تک پھیل گئی تھی۔

الجزیرہ نے یہ بھی بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوامی رائے میں تبدیلی کا ذمے دار غیر منصفانہ میڈیا کوریج کو ٹھہرایا اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور آئی سی ای کو ہدایت کی کہ وہ گرفتار افراد کا ریکارڈ منظر عام پر لائیں۔ آئی سی ای کا ہدف سالانہ 10 لاکھ افراد کو ملک بدر کرنا ہے، اور اس ادارے میں اب 22 ہزار سے زائد ایجنٹ کام کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ سال دستخط کیے جانے والے ٹیکس بل کے تحت اس ادارے کو چار سال کے دوران تقریباً 75 ارب ڈالر کی رقم فراہم کی گئی ہے، جس کے بعد یہ سب سے زیادہ بجٹ حاصل کرنے والا وفاقی قانون نافذ کرنے والا ادارہ بن چکا ہے۔

یہ واقعہ کیوں اہم ہے؟

بین الاقوامی مبصرین اور دنیا بھر کے حالات پر نظر رکھنے والوں کے لیے مغربی ممالک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پالیسیاں اور مقامی و وفاقی حکومتوں کے درمیان کشیدگی ہمیشہ سے توجہ کا مرکز رہی ہے۔ ایسے واقعات اس بحث کو مزید ہوا دیتے ہیں کہ تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں، شہروں کا امن اور اختیارات کا توازن کیسے قائم رکھا جائے۔