خیبر پختونخوا کے سیاسی منظر نامے میں صوبے میں لگنے والی ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے منگل کے روز راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ قید خانے میں موجود پارٹی بانی عمران خان نے صوبائی حکومت کے خاتمے کو خوش آئند قرار نہیں دیا، اور اس تاثر کو مسترد کیا کہ سابق وزیراعظم اس پیشرفت سے خوش تھے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے انہیں بتایا کہ عمران خان کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا علم تھا۔ جیو نیوز کے مطابق بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ عمران خان نے یہ نہیں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا خاتمہ اچھا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیر کے روز اڈیالہ جیل میں ہونے والی تقریباً 40 منٹ کی ملاقات میں زیادہ تر گفتگو صحت، رہائشی حالات اور زیر التوا قانونی امور پر مرکوز رہی، نہ کہ تفصیلی سیاسی امور پر۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی پر عائد پابندیوں نے سیاسی کشیدگی کو بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ جیو نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی ملاقاتوں کی اجازت پہلے دے دی جاتی تو شاید صوبے میں معاملات ایمرجنسی اور گورنر راج تک نہ پہنچتے۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے پارٹی کے اندرونی معاملات پر بھی بات کی اور فارورڈ بلاک کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے تمام ارکان اسمبلی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایسے کسی بھی معاملے میں حتمی فیصلہ وہی کریں گے۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق یہ تمام پیشرفت پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے سیاسی ملاقاتیں کرنے کی مسلسل کوششوں کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں خود بیرسٹر گوہر اور علامہ ناصر عباس کی کوششیں بھی شامل تھیں، جس کے بعد بیرسٹر سلمان صفدر کی رسائی ممکن بنائی گئی۔ بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ ان کا اپنا نام ملاقات کے لیے طے ہونے کی خبریں درست نہیں تھیں۔ سیاسی امور کے علاوہ پارٹی نے کے پی کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کی گرفتاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، جن کی بازیابی کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے معاملہ لارجر بنچ کو بھیج دیا ہے۔ اس کے علاوہ جیو نیوز کے مطابق بیرسٹر گوہر نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات اور حکومتی ردعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملات کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکتا تھا، جبکہ یہ بھی بتایا کہ پی ٹی آئی ایک آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی کوشش کر رہی ہے اور عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں سے طبی معائنے کا مطالبہ دوہرایا۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان کے عام شہریوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے یہ تبدیلیاں صوبائی سطح پر سیاسی جماعتوں اور حکومتی ڈھانچے کے درمیان جاری کھینچ تانی کو ظاہر کرتی ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت کی معطلی اور اہم صوبائی رہنماؤں کی قانونی حیثیت براہ راست خطے میں انتظامیہ اور قانون ساز اداروں کے کام پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جس وقت سیاسی جماعتیں کشیدگی سے نمٹ رہی ہیں اور آل پارٹیز کانفرنس جیسے راستوں پر غور کر رہی ہیں، جمہوری عمل کا استحکام اور باہمی گفت و شنید ملک بھر کے لیے ایک مرکزی تشویش بنی ہوئی ہے۔