جب ثقافتی جڑیں سخت پہرے والی سرحدوں کے آر پار پھیلی ہوں تو ایک چھوٹی سی دعوت بھی نئی دہلی میں سیاسی ہلچل مچا دیتی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے لاہور میں ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی شدید خواہش کا اظہار کیا ہے، جبکہ ساتھ ہی یہ کھلا سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت انہیں اس سفر کی اجازت دے گی۔
بھارتی پنجاب کی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مان نے بتایا کہ انہیں پاکستانی پنجابی شاعر بابا نجمی کی جانب سے لاہور میں 27 سے 29 نومبر تک ہونے والی چوتھی بین الاقوامی پنجابی کانفرنس کی دعوت موصول ہوئی ہے۔ اپنے سفر پر عائد پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر حکام انہیں فرانس یا جاپان جانے کی اجازت نہیں دیتے تو پاکستان کے دورے کے امکانات غیر یقینی ہی ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق مان نے مشترکہ جڑوں اور ایک جیسے مسائل پر زور دیتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سرحد کے دونوں جانب کے لوگوں کو آپس میں ملنا چاہیے۔
ان خیالات کی تائید کرتے ہوئے جیو نیوز نے بتایا کہ اسپیکر کلتر سنگھ سندھواں نے وزیراعلیٰ مان پر زور دیا کہ اگر اس دورے کی سرکاری منظوری مل جائے تو وہ اراکین اسمبلی کی قیادت کرتے ہوئے پاکستان کا دورہ کریں۔ کانفرنس کی دعوت کے علاوہ وزیراعلیٰ مان نے کرتارپور راہداری کو دوبارہ کھولنے کا بھی مطالبہ کیا۔
پس منظر
جیو نیوز کے مطابق کرتارپور راہداری، جو بھارتی پنجاب کے ضلع گرداسپور کے علاقے ڈیرہ بابا نانک کو پاکستان میں گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور سے ملاتی ہے، کو بھارتی حکام نے 7 مئی 2025 کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا تھا۔ یہ معطلی پہلگام حملے اور اس کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کے بعد عمل میں آئی تھی۔
جیو نیوز نے رپورٹ کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ سال مئی میں اس وقت جنگ شروع ہوئی جب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاحوں پر حملے کے بعد پاکستان پر ایک اور حملہ کیا۔ نئی دہلی کا دعویٰ تھا کہ پہلگام میں 26 سیاحوں کو ہلاک کرنے والے دہشت گرد پاکستانی تھے، ایک ایسا الزام جسے اسلام آباد نے مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ جیو نیوز کے مطابق اس کے بعد بھارت نے پاکستان کے اندر غیر قانونی میزائل حملے کیے، جس کے نتیجے میں کئی سویلینز اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 3 رافیل سمیت بھارت کے 8 لڑاکا طیارے مار گرائے، اور پھر 10 مئی کو امریکی ثالثی میں ہونے والے سیز فائر معاہدے کے بعد یہ جنگ ختم ہوئی۔
اس کی اہمیت کیا ہے
دونوں اطراف کے عام قارئین اور کمیونٹیز کے لیے سرحد پار سفر، لاہور کی کانفرنس جیسے ثقافتی تقریبات، اور کرتارپور جیسے مقدس مقامات کی حیثیت براہ راست علاقائی نقل و حرکت، مذہبی جذبات اور عوام سے عوام کے رابطوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اگرچہ حکام کی جانب سے مشترکہ ثقافتی تبادلے کی خواہشات کا اظہار کیا جاتا ہے، تاہم موجودہ سفارتی اور سیکیورٹی صورتحال یہ طے کرتی ہے کہ ان تجاویز کو حکومتی سطح پر کیسے دیکھا اور سنبھالا جاتا ہے۔

