اہم نکات

  • بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق جاز ورلڈ نے سال 2026 کی تیسری سہ ماہی میں 144.9 ارب روپے کی آمدنی حاصل کی۔
  • ڈیجیٹل خدمات کی آمدنی میں سال بہ سال 47.9 فیصد اضافہ ہوا جو بڑھ کر 58.1 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
  • سہ ماہی کے دوران کل سرمایہ کاری 68.9 فیصد اضافے کے ساتھ 20.9 ارب روپے ہو گئی۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق ٹیلی کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے والے ادارے جاز ورلڈ نے سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران 144.9 ارب روپے کی آمدنی کا اعلان کیا ہے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 26.6 فیصد زیادہ ہے۔ اس دوران کمپنی کے صارفین کی تعداد اور تکنیکی ڈھانچے میں بھی وسیع پیمانے پر ترقی دیکھی گئی۔

اہم تفصیلات

بزنس ریکارڈر کے مطابق ٹیلی کام اور بنیادی ڈھانچے کی آمدنی سال بہ سال 15.5 فیصد بڑھ کر 86.8 ارب روپے رہی، جبکہ ڈیجیٹل خدمات کی آمدنی 47.9 فیصد اضافے سے 58.1 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو کل آمدنی کا 40.1 فیصد بنتی ہے۔ اس کے علاوہ سود، ٹیکس، فرسودگی اور مالیت میں کمی سے پہلے کی کمائی (EBITDA) میں 23.9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 65.2 ارب روپے ہو گئی۔

جاز کے موبائل صارفین کی تعداد میں 5.1 فیصد سالانہ اضافہ ہوا اور یہ 7.64 کروڑ تک پہنچ گئی، جبکہ 4G اور 5G صارفین 8.1 فیصد اضافے کے ساتھ 5.95 کروڑ ہو گئے۔ فی صارف اوسط ڈیٹا کا استعمال 11.7 فیصد بڑھ کر 8.4 جی بی ہو گیا۔ ڈیجیٹل برانڈ آر او ایکس (ROX) کے فعال صارفین کی تعداد 62.8 فیصد اضافے کے ساتھ 33 لاکھ ہو گئی۔

سرمایہ کاری میں 68.9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 20.9 ارب روپے تک جا پہنچی، جس میں سے 18.6 ارب روپے ٹیلی کام اور انفراسٹرکچر پر خرچ کیے گئے۔ اس سرمائے کی بدولت نیٹ ورک کو پھیلانے اور 1,000 سے زائد 5G سائٹس لگانے میں مدد ملی۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق جاز کیش، موبی لنک بینک اور جاز شور انشورنس پر مشتمل مالیاتی خدمات کی آمدنی بھی 67.6 فیصد بڑھ کر 43.4 ارب روپے ہو گئی، جبکہ 30 ستمبر تک مجموعی قرض کا پورٹ فولیو 51.9 فیصد اضافے سے 134.6 ارب روپے ہو گیا۔

پس منظر اور اثرات

سامنے آنے والے یہ اعداد و شمار پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر میں ڈیجیٹل اور مالیاتی خدمات کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات موبائل ڈیٹا کے استعمال میں اضافہ اور جاز کیش جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے مالیاتی شمولیت کا فروغ ہیں۔

خلاصہ اور آگے کیا ہوگا

سہ ماہی کے یہ نتائج روایتی ٹیلی کام آپریشنز اور ڈیجیٹل شعبوں دونوں میں وسیع پیمانے پر وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مستقبل میں مزید ترقی کا دارومدار جدید نیٹ ورک کے نفاذ اور مالیاتی خدمات کے تسلسل پر ہوگا۔