امریکی کانگریس پر ریپبلکن پارٹی کی گرفت ٹوٹ چکی ہے اور نائب صدر جے ڈی وینس نے اس کا سارا ملبہ ایران کے ساتھ جاری جنگ پر ڈال دیا ہے۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آ گئے جب نائب صدر نے اس جنگ کو وسط مدتی انتخابات میں عبرتناک شکست کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا، جس کے نتیجے میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں ہی ڈیموکریٹک پارٹی کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جے ڈی وینس نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے لکھا، "ہماری ہار کی اصل وجہ یہ جنگ ہے۔ صدر نے خود بھی گزشتہ رات یہی کہا تھا۔" انہوں نے اس فوجی مہم کے سیاسی نقصانات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگلے 6 سال کے لیے سینیٹ سے ہاتھ دھو بیٹھنا ریپبلکن تحریک کے لیے بہت بڑی قیمت ہے۔ وینس نے ایک غیر ملکی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2024 میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے ووٹرز کے ڈیموکریٹس کی طرف جانے کی بڑی وجوہات میں ایران جنگ کا خاتمہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی شامل تھی۔
دوسری جانب، ایران کے خلاف سخت گیر موقف رکھنے والے سینیٹر ٹیڈ کروز کے لہجے میں بھی اب تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، ٹیڈ کروز نے اپنے پوڈ کاسٹ میں کہا کہ یہ جنگ مختصر اور فیصلہ کن ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے جون میں ہونے والے اس معاہدے پر بھی کڑی تنقید کی جس کے تحت جنگ کے بعد ایران کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کا فنڈ تجویز کیا گیا تھا۔ کروز نے اسے ایرانی قیادت کے لیے ایک "بڑا تحفہ" قرار دیا۔
تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں صدر نے کہا کہ انہیں فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگ شروع کرنے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور وہ ضرورت پڑنے پر دوبارہ بھی ایسا ہی کریں گے۔ البتہ، وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ جے ڈی وینس کی بات بڑی حد تک درست ہے کہ جنگ کی وجہ سے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے امریکی ووٹرز کو متاثر کیا۔
پس منظر
فروری میں شروع ہونے والی اس جنگ کو ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کے لیے ایک ضروری اقدام قرار دیا تھا۔ لیکن اس تنازع کا حل نکالنا انتہائی مشکل ثابت ہوا۔ الجزیرہ کے مطابق، جون میں ہونے والا سیز فائر کا معاہدہ جلد ہی ناکام ہو گیا تھا۔ اس معاہدے میں تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کا متنازع فنڈ بھی شامل تھا، جس پر قدامت پسند قانون سازوں نے شدید اعتراض کیا تھا کہ یہ شرائط ایران کے لیے بہت نرم ہیں۔
مڈٹرم انتخابات کے یہ نتائج ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک ایسے وقت میں آئے ہیں جب وہ 2028 کے صدارتی انتخابات کی طرف دیکھ رہی ہے۔ آئینی پابندیوں کی وجہ سے صدر ٹرمپ تیسری بار امیدوار نہیں بن سکتے، اس لیے جے ڈی وینس جیسے رہنما اب خود کو مستقبل کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ کانگریس کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے پاس جانے سے اب ان کے پاس یہ طاقت آ گئی ہے کہ وہ اس جنگ کو روکنے کے لیے قانون سازی کر سکیں۔
یہ کیوں اہم ہے؟
پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے واشنگٹن میں ہونے والی یہ سیاسی تبدیلی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مداخلت کی شدت اور سمت بدلنے کا اشارہ ہو سکتی ہے۔ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت صدر کی فوجی طاقت پر قدغن لگا سکتی ہے، جس سے سفارتی کوششوں کے دوبارہ شروع ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، ایندھن کی قیمتوں اور تعمیرِ نو کے فنڈز پر ریپبلکن پارٹی کے اندرونی جھگڑے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی دباؤ کس طرح خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ عالمی برادری کے لیے توانائی کی منڈیوں کا استحکام اور خطے میں پائیدار امن اب بھی سب سے اہم سوالات ہیں۔

جے ڈی وانس
ڈونلڈ ٹرمپ