نیوزی لینڈ میں عام انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہیں اور تازہ ترین جائزوں کے مطابق حکمراں سینٹر رائٹ نیشنل پارٹی اور اپوزیشن سینٹر لیفٹ لیبر پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ الجزیرہ اور رائیٹرز کی رپورٹس کے مطابق انتخابات میں دونوں بڑی جماعتوں میں سے کسی کے بھی تنہا حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نشستیں حاصل کرنے کا امکان کم ہے، جس کی وجہ سے انتخابی نتائج کا انحصار چھوٹی سیاسی جماعتوں پر ہوگا۔

اہم حقائق

  • الجزیرہ اور رائیٹرز کے مطابق نیوزی لینڈ میں ہر تین سال بعد مکسڈ ممبر پروپورشنل (ایم ایم پی) نظام کے تحت عام انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔
  • ووٹرز دو ووٹ ڈالتے ہیں: ایک مقامی حلقے کے امیدوار کے لیے اور دوسرا کسی سیاسی جماعت کے لیے، جیسا کہ الجزیرہ اور رائیٹرز نے بتایا۔
  • الجزیرہ اور رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق ملک میں کل 71 انتخابی حلقے ہیں جن میں سے 7 مقامی ماوری آبادی کے لیے مخصوص ہیں۔
  • موجودہ وزیراعظم کرسٹوفر لکسن 2023 میں نیشنل پارٹی کو اقتدار میں واپس لانے کے بعد دوسری مدتِ وزارتِ عظمیٰ کے خواہاں ہیں۔

پس منظر

الجزیرہ اور رائیٹرز کی تفصیلات کے مطابق ایم ایم پی نظام کے تحت پارٹی ووٹ یہ طے کرتے ہیں کہ 120 نشستوں پر مشتمل پارلیمنٹ میں ہر جماعت کا حصہ کیا ہوگا۔ حکومت بنانے کے لیے عام طور پر 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں اور متناسب نمائندگی یقینی بنانے کے لیے تقریباً 49 نشستیں پارٹی لسٹوں سے پُر کی جاتی ہیں۔ پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل کرنے کے لیے جماعتوں کو پارٹی ووٹ کا 5 فیصد یا کم از کم ایک حلقے میں کامیابی حاصل کرنا لازمی ہے۔ 1996 میں ایم ایم پی نظامن کے نفاذ کے بعد سے 2020 کے علاوہ ہر حکومت مخلوط رہی ہے جب سابق وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی قیادت میں لیبر پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ الجزیرہ اور رائیٹرز کے مطابق موجودہ وزیراعظم کرسٹوفر لکسن اس وقت نیوزی لینڈ فرسٹ اور اے سی ٹی کے ساتھ مل کر تین جماعتی مخلوط حکومت چلا رہے ہیں، اگرچہ اقتصادی اور سیاسی چیلنجز کے باعث انہیں دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

بین الاقوامی طرزِ حکمرانی کا مطالعہ کرنے والے قارئین کے لیے نیوزی لینڈ کا انتخابی نظام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ متناسب نمائندگی اور مخلوط حکومتوں کی حرکیات کس طرح سیاسی استحکام اور قیادت کو متاثر کرتی ہیں۔ جب کسی بڑی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہو تو دنیا بھر کی پارلیمانی جمہوریتیں اکثر اسی طرح کے اتحاد بنانے کے مراحل سے گزرتی ہیں۔