واشنگٹن نے تہران کی عسکری صلاحیتوں کو تقویت دینے والے راستوں کو بند کرنے کے لیے بین الاقوامی سپلائرز کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق امریکہ نے بدھ کے روز دو افراد اور ایک ادارے پر پابندیاں عائد کر دیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کو دستی فضائی دفاعی نظام (مینپڈز) حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔
محکمہ خارجہ کے حوالے سے ایکسپریس ٹریبیون نے بتایا کہ ان اقدامات سے تہران کے لیے اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے کو دوبارہ تعمیر کرنے کے راستے مزید محدود ہو جائیں گے اور تیسرے ملک کے دلالوں اور سپلائرز کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے۔ محکمہ خارجہ کی جانب سے جن افراد اور اداروں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں بیلاروس میں قائم آرموری الائنس کے سی ای او محمد علی طولیبوف، نائجیریا میں واقع وانگگارڈ ٹیکٹیکل سپلائی لمیٹڈ اور روس میں مقیم علیشیر دومولوڈژانوف شامل ہیں۔
ایxpress ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اس نیٹ ورک پر الزام ہے کہ اس نے غلط حتمی صارفین کا استعمال کرتے ہوئے ایران کے لیے چین ساختہ مینپڈز کی خریداری میں سہولت کاری کی کوشش کی۔ محکمہ خارجہ نے بیان دیا کہ امریکہ ایران کی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کو مسلح کرنے والے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرتا رہے گا تاکہ اس رجیم کو اس کی سرگرمیوں کے لیے وسائل سے محروم رکھا جا سکے۔
خطے میں ایک الگ پیش رفت کے دوران، ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جمعرات کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستے استعمال کرنے کی کوشش کے بعد پیش آنے والے الگ الگ واقعات میں دو تیل بردار جہاز اور ایک ٹگ بوٹ میں آگ لگ گئی۔ پاسدارانِ انقلاب نے بتایا کہ آبنائے کے جنوب میں واقع گزرگاہ کو عبور کرنے کی کوشش کے دوران ایک ٹینکر ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جبکہ مشرقی حصے سے نکلتے وقت ایک اور سپر ٹینکر میں آگ لگ گئی، اس کے ساتھ ہی آگ بجھانے میں مدد کے لیے آنے والی ایک ٹگ بوٹ بھی حادثے کا شکار ہو گئی۔
پس منظر
ایxpress ٹریبیون کے مطابق، امریکہ کی حالیہ پابندیاں ایران کی مینپڈز کی خریداری کی کوششوں سے جڑے ہوئے مخصوص بین الاقوامی عناصر کو ہدف بناتی ہیں۔ محکمہ خارجہ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ان اقدامات کا مقصد تہران کی جانب سے کام کرنے والے تیسرے ملک کے سپلائرز اور دلالوں کے لیے خطرات کو بڑھانا ہے۔ ساتھ ہی، آبنائے ہرمز میں سمندری سکیورٹی کے غیر مجاز راستوں سے جڑے واقعات کے نتیجے میں دو تیل بردار جہازوں اور ایک امدادی ٹگ بوٹ میں آگ لگ گئی، اور پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایک جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔
اہمیت کیوں رکھتی ہے
بین الاقوامی پابندیوں اور اہم علاقائی آبی گزرگاہوں میں سمندری سکیورٹی سے جڑے یہ حالات عالمی تجارت، توانائی کی نقل و حمل اور وسیع تر خطے میں سفارتی استحکام پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے قارئین اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ سپلائی چین کی پابندیاں اور سمندری حادثات کس طرح وسیع تر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
