امریکہ میں ہونے والے حالیہ مڈٹرم انتخابات کے نتائج نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’انتخابی دھاندلی‘ کے بیانیے کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، 5 ایسی اہم ریاستیں جہاں کانٹے کا مقابلہ تھا، وہاں ان ریپبلکن امیدواروں کو گورنر کے عہدے پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جنہوں نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔
الجزیرہ کے مطابق، ان شکست خوردہ امیدواروں میں ایریزونا سے اینڈی بگس، مشی گن سے جان جیمز، پنسلوانیا سے ریاستی ٹریژرر سٹیسی گیریٹی، وسکونسن سے ٹام ٹفنی اور جارجیا سے تعلق رکھنے والے ارب پتی رک جیکسن شامل ہیں۔ ان تمام امیدواروں نے ماضی میں جو بائیڈن کی فتح پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا یا اسے روکنے کی کوششوں کا حصہ رہے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رک جیکسن نے جارجیا کے حکام کو ٹرمپ کے مطالبات نہ ماننے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جبکہ اینڈی بگس اور ٹام ٹفنی نے جنوری 2021 میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے ارکان کی حیثیت سے انتخابی نتائج کو منسوخ کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اسی طرح سٹیسی گیریٹی نے 6 جنوری کے واقعے سے قبل پنسلوانیا کے نتائج کی تصدیق روکنے کے لیے ٹرمپ کے ساتھ مل کر مہم چلائی تھی، جبکہ جان جیمز نے ایک انٹرویو میں 2020 کے انتخابات کو ’ہیرا پھیری‘ قرار دیا تھا۔
شکست کے بعد صورتحال میں کچھ تبدیلی بھی دیکھی گئی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ٹام ٹفنی، سٹیسی گیریٹی اور رک جیکسن نے اب جو بائیڈن کی ماضی کی کامیابی کو تسلیم کر لیا ہے، تاہم اینڈی بگس اور جان جیمز کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
انتخابی نتائج کے پس منظر میں ڈیموکریٹس کی برتری
ان نتائج کو امریکی سیاست میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایریزونا، مشی گن، پنسلوانیا، وسکونسن اور جارجیا وہ ریاستیں تھیں جو 2020 کے صدارتی انتخابات میں بھی سیاسی جنگ کا مرکز رہی تھیں۔ ان ریاستوں میں ناکام ہونے والے ریپبلکن امیدواروں نے نہ صرف قانونی چیلنجز کی حمایت کی تھی بلکہ انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دینے کے لیے قانون سازی کی سطح پر بھی کوششیں کی تھیں۔
ان نتائج کی اہمیت کیا ہے؟
امریکہ میں ریاستوں کے سربراہ یعنی گورنرز کے پاس انتخابات کے انتظام و انصرام کے حوالے سے وسیع اختیارات ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان عہدوں پر آنے والے نتائج مستقبل کی سیاست اور بالخصوص 2028 کے صدارتی انتخابات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ ووٹرز نے انتخابی عمل پر شک کرنے والے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے۔

