کیا کیریبین کے سلگتے ہوئے خطے میں امن کی بحالی کا مشن مزید الجھتا جا رہا ہے؟ پورٹ او پرنس کی گلیوں میں اس وقت کھلبلی مچی ہوئی ہے جب ایک طرف غیر ملکی فوجی دستے گشت کر رہے ہیں اور دوسری طرف لاپتہ ہونے والی ٹیم کی جلی ہوئی گاڑی ہاتھ لگ گئی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ہیٹی کی پولیس نے منگل کے روز دارالحکومت کے نواحی علاقے سانتو سے ایل سلواڈور کے چار لاپتہ ہوابازی کے تکنیکی ماہرین کا وہ ٹرک تلاش کر لیا جو جلا ہوا تھا، تاہم ان ماہرین کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، ان چاروں تکنیکی ماہرین کے 18 اکتوبر کو لاپتہ ہونے پر ایل سلواڈور کے دائیں بازو کے رہنما نے 2 ہزار سے زائد فوجیوں اور جنگی سازوسامان کو ہیٹی روانہ کر دیا۔ الجزیرہ نے بتایا کہ صدر نایب بوکیلے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایسی ویڈیوز شیئر کی ہیں جن میں ایل سلواڈور کے فوجیوں کو گشت کرتے، مقامی افراد سے ملتے اور چاڈ کے فوجیوں پر حملہ کرنے والے گروہوں کے خلاف فوجی ہیلی کاپٹروں کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، صدر بوکیلے نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں جرائم پیشہ گروہوں کو للکارتے ہوئے لکھا کہ اپنے جتھے اکٹھے کرو تاکہ ہم ان کے ساتھ جا کر لڑیں۔ الجزیرہ نے یہ بھی بتایا کہ یہ گاڑی اقوام متحدہ کے تعاون سے چلنے والی کثیر القومی گینگ سپریشن فورس، سلواڈور کے فوجیوں اور قومی پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران برآمد کی گئی۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ایل سلواڈور کے صدر نایب بوکیلے نے 2019 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک کے اندر جرائم کے خلاف سخت ترین کارروائیاں کی ہیں، جن کے تحت ہزاروں افراد کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ایمرجنسی نافذ کی گئی، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس سے شہریوں کے متعدد حقوق معطل ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف ہیٹی میں دارالحکومت پورٹ او پرنس کے بڑے حصے اور آس پاس کی بستیاں جیسے کہ کروائے ڈو بوکیٹس، مسلح گروہوں کے کنٹرول میں ہیں جن پر قابو پانے کے لیے مقامی حکام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اس فوجی تعیناتی پر دائرہ اختیار کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے بیان دیا کہ تعینات کیے گئے سلواڈور کے فوجیوں میں سے صرف تقریباً 200 فوجی جی ایس ایف کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ سلامتی کے آپریشنز کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ ادھر الجزیرہ نے بتایا کہ ہیٹی کے وزیراعظم الیکس دیدیے فلز ایمے نے عوام کو یقین دلایا کہ غیر ملکی فورسز ریاست کی جگہ لینے کے بجائے اس کی مدد کے لیے ہیٹی کے اختیار کے تحت کام کر رہی ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

عالمی سیکیورٹی کے حالات پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی مبصرین کے لیے یہ تعیناتی گینگ کے زیر کنٹرول علاقوں میں کثیر القومی سیکیورٹی مداخلتوں کے پیچیدہ قانونی اور عملی چیلنجوں کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ صورتحال مسلح مداخلتوں کے دوران مقامی ریاستی اتھارٹی کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے فریم ورک کی پاسداری کے درمیان ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے۔

آگے کیا ہوگا

الجزیرہ کے مطابق، جلی ہوئی گاڑی ملنے کے بعد ایل سلواڈور کے چاروں لاپتہ ہوابازی کے تکنیکی ماہرین کی تلاش کا کام جاری ہے، جبکہ قومی اور بین الاقوامی فورسز کی جانب سے سیکیورٹی آپریشنز کا سلسلہ بھی تاحال جاری ہے۔