سینیٹ کا ایوان بدھ کے روز ایک گرم بحث کا اکھاڑہ بن گیا جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپوزیشن بنچوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایک بڑا سیاسی انکشاف کیا۔ جیو نیوز کے مطابق، وزیر داخلہ کے اس بیان پر ایوان میں موجود جے یو آئی ایف کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی شروع کر دی، جس سے سیاسی درجہ حرارت یک دم بڑھ گیا۔
محسن نقوی نے تحریک انصاف کے سینیٹرز، بالخصوص بیرسٹر علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی ایف کے رہنماؤں نے ماضی میں صوبے میں اپنے سیاسی حریفوں سے جان چھڑانے کے لیے حکومت سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی درخواست کی تھی۔ جیو نیوز کے مطابق اس انکشاف پر ایوان میں ہنگامہ برپا ہو گیا اور سینیٹر کامران مرتضیٰ سمیت جے یو آئی ایف کے دیگر ارکان نے شدید احتجاج کیا جبکہ چیئرمین سینیٹ کو بار بار نظم و ضبط بحال کرنے کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔
ایران دورے پر وضاحت اور جے یو آئی ایف پر تنقید
جیو نیوز کے مطابق، وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ بیان جے یو آئی ایف کے سربراہ مولانا فضل الرحماں کی جانب سے ان کے حالیہ سرکاری دورۂ ایران پر کی جانے والی تنقید کا جواب تھا۔ محسن نقوی نے ان الزامات کی سختر تردید کی کہ پاکستانی حکام ایران دفاعی معاہدے کے لیے گئے تھے، اور واضح کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں موجودہ علاقائی بحران کے حوالے سے ذمہ داریاں سونپی تھیں۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ نے جے یو آئی ایف کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ سیاسی اور ذاتی فائدے کے لیے مذہب کا استعمال کرتے ہیں۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اس جماعت کا رویہ ریاست کے ساتھ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ انہیں حکومت میں حصہ ملتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جماعت کی جانب سے لگاتار حملوں کا جواب دیا جائے گا۔
پس منظر اور کشیدگی کی وجہ
ماخذ کے مطابق، سینیٹ میں یہ ٹکراؤ جے یو آئی ایف کے سربراہ مولانا فضل الرحماں کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے وزیر داخلہ کے دورۂ ایران پر تنقید کی تھی۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ پہلے مولانا فضل الرحماں کا ذاتی احترام کرتے تھے، لیکن حالیہ بیانات کے بعد باہمی احترام کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے۔ ایوان میں اس وقت ماحول مزید کشیدہ ہو گیا جب وزیر داخلہ اور جے یو آئی ایف کے قانون سازوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور چیئرمین نے ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
اہمیت
پاکستان میں سیاسی ہلچل پر نظر رکھنے والے عام شہریوں کے لیے، وفاقی وزرا اور اہم سیاسی جماعتوں کے درمیان اس قسم کے عوامی تنازعات سیاسی اتحادوں اور پارلیمانی روایات کے نازک پن کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب ملکی معیشت اور علاقائی سیکیورٹی کے چیلنجز پوری توجہ کے متقاضی ہیں، اہم سیاسی شخصیات کے مابین بڑھتی ہوئی لفظی جنگ پارلیمانی کارروائیوں میں گہرے ہوتے ہوئے پولرائزیشن کو عیاں کرتی ہے۔

محسن رضا نقوی
علی ظفر
مولانا فضل الرحمٰن