ایک معمول کا معمولی سا دورہ اس وقت قیامت خیز سانحے میں بدل گیا جب ایک دھماکے نے پلک جھپکتے ہی سات زندگیوں کو نگل لیا۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق تھرپارکر کے ایک بنیادی صحت مرکز (بی ایچ یو پلس) میں ایمبولینس کا آکسیجن سلنڈر تبدیل کرنے کے دوران زوردار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں لگنے والی آگ اور دھماکے سے سات افراد جاں بحق ہو گئے۔

اس دلخراش واقعے میں جان کی بازی ہارنے والوں میں ایک حاملہ خاتون، اسپتال کے چار ملازم اور دو تیمار دار شامل ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق، پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشیٹو (پی پی ایچ آئی) کی زیرِ انتظام چلنے والی اس ایمبولینس میں حاملہ خاتون اس وقت بھی موجود تھی جب یہ سلنڈر فٹ کیا جا رہا تھا۔

نگرپارکر کی اسسٹنٹ کمشنر ارم کریم لغاری (ناریجو) کے مطابق، حادثے میں زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے سول اسپتال مٹھی منتقل کر دیا گیا۔ اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ، ریسکیو سروسز اور صحت کے محکمے کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، جبکہ جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔

پس منظر اور چیلنجز

جیو نیوز کے مطابق اس واقعے نے تھرپارکر جیسے دور افتادہ اور خشک علاقے میں صحت کی سہولیات اور ہنگامی ٹرانسپورٹ کو درپیش سنگین مسائل کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے، جہاں کے مکین بنیادی طور پر سرکاری صحت مراکز پر انحصار کرتے ہیں۔ جیو نیوز نے اکتوبر 2019 کی ایک اور پرانی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں سول اسپتال مٹھی میں ایمبولینس کی فراہمی اور ایندھن کے فنڈز کی کمی جیسے مسائل کا ذکر کیا گیا تھا۔

یہ واقعہ کیوں اہم ہے؟

پاکستان کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے عام شہریوں کے لیے سرکاری صحت کے مراکز اور ہنگامی نقل و حرکت کے ذرائع زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتے ہیں۔ اس نوعیت کے حادثات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ روزمرہ کے طبی امور میں حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے اور کم وسائل والے علاقوں میں قابلِ بھروسہ طبی ڈھانچے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

جیو نیوز کے مطابق، آکسیجن سلنڈر کے پھٹنے کی اصل وجوہات کا باضابطہ تعین ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔