جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈا میں اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب سرحد پار سے داغے گئے مورٹر گولے رہائشی آبادی اور بازار پر آ گرے۔ جیو نیوز کے مطابق افغان طالبان کی اس بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایک بے گناہ شہری شہید جبکہ ایک ہی خاندان کے پانچ افراد شدید زخمی ہو گئے، اس کے علاوہ متعدد دکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

اس خونی حملے کے فوراً بعد پاک فوج نے زمین پر ڈٹ کر فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی۔ سیکیورٹی ذرائع نے جیو نیوز کو بتایا کہ پاکستانی دستوں نے سرحد کے اس پار افغان طالبان کی کئی چوکیوں کو نشانہ بنایا اور انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیا، جبکہ سیکیورٹی فورسز کسی بھی مزید جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

لوئر جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ افغان طالبان فورسز نے انگور اڈا کے بازار اور آبادی والے علاقوں کو بلا اشتعال نشانہ بنایا۔ جیو نیوز کے مطابق اس ابتدائی فائرنگ اور گولہ باری کے بعد پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کا سلسلہ جاری رہا۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق انگور اڈا کے اس سکتور میں سرحد پار سے تناؤ اور جھڑپوں کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل اپریل کے آخر میں بھی سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ سے جنوبی وزیرستان میں شہریوں کے زخمی ہونے اور املاک کو نقصان پہنچنے کے واقعات پیش آئے تھے، جس پر پاکستانی فورسز نے افغان طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ فروری میں بھی جھڑپیں ہوئی تھیں جب پاکستان نے آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا تھا۔

اسلام آباد کی جانب سے بارہا کابل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ دوسری طرف افغان طالبان حکام اس بات کی تردید کرتے آئے ہیں کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، جیسا کہ جیو نیوز نے رپورٹ کیا۔

اس کشیدگی کا پس منظر اور اثرات

سرحدی علاقوں کے عام باسیوں کے لیے اس قسم کے پے در پے سرحدی تنازعات شدید تشویش کا باعث ہیں، جو خطے میں جاری کشیدگی اور انسانی جانوں کے ضیاع کو ظاہر کرتے ہیں۔ انگور اڈا جیسے علاقوں میں معصوم شہریوں کا جاں بحق ہونا اور املاک کا نقصان سرحدی آبادیوں کے مسائل اور دفاعی اداروں کے سامنے موجود چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔