جب خطے کے حالات تیزی سے بدل رہے ہوں اور سکیورٹی کے نئے چیلنجز سامنے آ رہے ہوں، تو ایسے میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے ایک اہم دفاعی اتحاد تشکیل دے دیا ہے۔ جیو نیوز اور رائٹرز کے مطابق، ان تینوں برادر ملکوں کے درمیان مکّہ جوائنٹ ڈیفنس الائنس طے پا گیا ہے جو ابتدائی طور پر 10 سال کے لیے نافذ العمل ہوگا اور اس دوران کسی بھی رکن ملک کو معاہدے سے الگ ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اہم حقائق
رائٹرز اور پارلیمانی ذرائع کے مطابق، یہ معاہدہ اگست میں طے پایا تھا جس کی رو سے تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ تمام اراکین پر حملہ مانا جائے گا اور سب مل کر بیرونی جارحیت کا مقابلہ کریں گے۔
معاہدے کے آرٹیکل 1 کے تحت فریقین پر لازم ہے کہ وہ اپنی سالمیت اور سرحدوں کے دفاع کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔ آرٹیکل 2 میں یہ طے کیا گیا ہے کہ اگر کسی فریق کو جارحیت کا سامنا ہو تو فوری طور پر عسکری تعاون فراہم کیا جائے گا۔ یہ شق اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 اور نیٹو کے اصولوں سے مطابقت رکھتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق، اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک باہمی مشاورت سے دفاعی تعاون اور وسائل کا تعین کریں گے۔ 10 سال کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی یہ معاہدہ جاری رہے گا، البتہ اگر کوئی ملک اس سے الگ ہونا چاہے تو اسے کم از کم 3 ماہ پہلے سفارتی ذرائع سے تحریری نوٹس دینا ہوگا۔
پس منظر
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ترکی نے اس دفاعی معاہدے کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے جہاں اس پر کمیٹی میں بحث کی توقع ہے۔ یہ پیش رفت ریاض میں ہونے والے ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں تینوں ممالک نے سعودی عرب پر ہونے والے حوثی حملوں کے تناظر میں فوری فوجی دستے اور صلاحیتیں تعینات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
ترکی اپنی مضبوط دفاعی صنعت کے ساتھ سعودی عرب کو فوجی ٹیکنالوجی فراہم کرنے اور بحیرہ احمر میں بحری گزرگاہوں کے تحفظ کے لیے سعودی اتحاد کا حصہ بننے پر رضا مند ہو گیا ہے۔ اس معاہدے میں انٹیلی جنس کا تبادلہ اور لاجسٹک سپورٹ بھی شامل ہے۔
اس کی اہمیت کیا ہے
عوام کے لیے یہ معاہدہ خطے کے اہم ملکوں کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی کے شعبے میں گہرے تعاون کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے باقاعدہ فریم ورک بن گیا ہے۔
آگے کیا ہوگا
رائٹرز کے مطابق ترکی کی جانب سے معاہدہ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے بعد اب اس پر پارلیمانی کمیٹیوں میں باقاعدہ بحث کا آغاز ہو رہا ہے۔

